کوئٹہ میں دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ


 دہشت گرد انتہائی منظم طریقے سے پورے ملک میں کام کر رہے ہیں۔فوٹو: فائل

دہشت گرد انتہائی منظم طریقے سے پورے ملک میں کام کر رہے ہیں۔فوٹو: فائل

دہشت گردی کے مختلف واقعات میں کوئٹہ کے علاقے نیو سریاب درخشاں ریلوے پھاٹک کے قریب ایلیٹ فورس کے ٹرک کو خود کش بمبار نے اڑا دیا جس کے نتیجے میں 7 پولیس اہلکاروں سمیت 8افراد شہید اور30زخمی ہو گئے۔ قمبرانی روڈ پر دہشت گردی کے ایک اور واقعے میں سی ٹی ڈی انسپکٹر کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا‘ پنجگور کی تحصیل گیچک میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر شرپسندوں کی فائرنگ سے ایک اہلکار شہید اور چار زخمی ہو گئے۔

شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی سڑک کنارے نصب بارودی مواد سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید ہو گئے، ڈیرہ بگٹی لوٹی گیس فیلڈ میں شرپسندوں نے گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی۔ صدر ممنون حسین اور وزیراعظم خاقان عباسی نے کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ بزدلانہ حملوں سے دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے کہا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔

دہشت گردی کے ہونے والے مختلف واقعات میں بالخصوص سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کا مقصد ان میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور انھیں اپنی ذمے داریوں کی ادائیگی سے روکنا ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں پر ایک عرصے سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ریاستی سطح پر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے بھرپور کوششیں کی جا رہی اور سیکیورٹی اہلکار اپنی جانوں پر کھیل کر اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے مصروف عمل ہیں لیکن دہشت گردوں کی شناخت نہ ہونے کے سبب دہشت گردی پر قابو پانا اتنا آسان نہیں۔ یہ بے چہرہ اور بے شناخت دہشت گرد اسی معاشرے میں گھومتے پھرتے جہاں ان کے سہولت کار ان کے ممدومعاون ثابت ہوتے ہیں۔ بیرونی دشمن سے زیادہ اندرونی دشمن خطرناک ہوتا ہے‘ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے گرد قانون کا شکنجہ کسا جائے۔

دہشت گردوں کے حملوں کا تسلسل اس امر کا مظہر ہے کہ ریاستی کوششوں کے باوجود دہشت گردی کو ختم نہیں کیا جا سکا ،یوں معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گرد انتہائی منظم طریقے سے پورے ملک میں کام کر رہے ہیں۔ یہ بات متعدد بار منظر عام پرآ چکی ہے کہ دہشت گردوں کو بیرون ملک سے بھی امداد اور تربیت مل رہی ہے جس کے باعث ان کا خاتمہ ممکن نہیں ہو رہا لہٰذا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وضع کردہ پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے اور ایسا فریم ورک تشکیل دیا جائے جس سے دہشت گردوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔سیکیورٹی پالیسیوں کی تشکیل نو سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی زندگیوں کے تحفظ کی ضامن ہو سکتی ہے۔ وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسی جانب اشارہ کیا کہ دہشت گرد اپنی کارروائیوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہے ، وہ وہاں بیٹھ کر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ان کو اس سلسلے میں ہر سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بارہا یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے بھارت اور افغانستان میں گٹھ جوڑ ہو چکا اور امریکا ان دو ممالک کے تعاون سے افغان جنگ کو پاکستان کی سرزمین پر منتقل کرنا چاہتا ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لیے تشویشناک ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد حکمران صرف بیان دے کر اپنی ذمے داریوں سے بری ہو جاتے ہیں‘ دہشت گردی کا خاتمہ بیانات سے ممکن نہیں اس کے لیے مضبوط پالیسی اور عملی کارکردگی کی ضرورت ہے۔ اس مشکل صورت حال سے نمٹنے کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت کا ایک پیج پر ہونا ناگزیر ہے۔

سیکیورٹی کے حوالے سے تشکیل دی گئی پالیسیوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے اور جہاں کوئی خامی دکھائی دے اسے فی الفور دور کیا جانا چاہیے۔ دہشت گرد اپنی کارروائیوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور جدید ہتھیاروں کا استعمال بھی کر رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے ملک بھر میں پھیلے ہوئے خفیہ نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے سیکیورٹی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے درمیان مربوط اور منظم رابطے اور اطلاعات کا ہونا لازمی ہے۔



Source link