سیکیورٹی اور معیشت کا استحکام


وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت تیزی سے بحالی کی جانب گامزن ہے . فوٹو: فائل

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت تیزی سے بحالی کی جانب گامزن ہے . فوٹو: فائل

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت تیزی سے بحالی کی جانب گامزن ہے، سیکیورٹی صورتحال میں بہتری کی وجہ سے گزشتہ چار سال کے دوران پاکستانی معیشت نے شاندار کارکردگی دکھائی ہے، جامع حکمت عملی اور غیر متزلزل عزم کی وجہ سے پاکستان نے دہشتگردوں کو شکست دی ہے، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کی معیشت کو مزید ترقی دے گا۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے ترکی کے شہر استنبول میں ڈی ایٹ سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم نے اپنے خیالات کا اظہار درحقیقت دنیا کے بھرپور مواقع کی حامل تنظیموں کے سربراہی اجلاس میں کیا، جہاں ماہرین اقتصادیات ملکی حالات، پاکستان کے داخلی معاشی اشاریے اور معیشت کی حقیقی صورتحال کے حوالے سے ملے جلے تاثرات پر مبنی عندیے ظاہر کر رہے ہیں، تاہم سیاسی صورتحال اقتصادی محرکات اور عوامل سے الگ کوئی چیز نہیں، آج کوئی قوم محض اپنی فوجی طاقت اور ایٹمی اثاثوں پر انحصار کو نسخہ کیمیا نہیں گردانتی، اس لیے ڈی ایٹ جیسی طاقتور تنظیم کو امن و استحکام اور اقتصادی ترقی کے گلوبل روڈ میپ کے لیے پاکستان کی تجاویز اور سفارشات کو اہمیت دینی چاہیے۔

ہر ملک کو اپنی اقتصادی اور عسکری قوت کے درمیان بیلنس رکھنے کی ضرورت ہے، اضطراب، عدم تحفظ اور عدم استحکام کی افواہوں اور سیاسی بے سمتی نے جہاں پاکستان کو چیلنجز سے دوچار کیا ہے اسی طرح پوری دنیا کو دہشتگردی کے فتنے کا سامنا ہے۔ برٹرینڈ رسل نے ایک بار کہا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے احمق اور انتہاپسند اپنے بارے میں ہمیشہ یقین رکھتے ہیںجب کہ اہل دانش شکوک و شبہات میں مکمل گرفتار۔ معیشت کو سب سے بڑا خطرہ کرپشن، بلاجواز انتہاپسندی اور مذہبی جنون سے ہے، جمہوری ریاستوں میں دہشتگردی کی مسلسل وارداتوں نے کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اسلام آباد میں منعقدہ آٹھویں ڈی ایٹ میں نومبر 2012ء میں ڈی ایٹ تنظیم برائے اقتصادی تعاون کی صدارت سنبھالی تھی جس میں دو تاریخی دستاویزات کی منظوری دی گئی تھی، جن میں سے ایک ڈی ایٹ چارٹر اور دوسرا گلوبل ویژن تھا۔ 20 سال قبل ایک مشترکہ ویژن نے ہمارے ممالک کے رہنماؤں کو زراعت، صنعت، ایس ایم ایز، تجارت، توانائی اور سیاحت کے کلیدی شعبہ جات میں تعاون کے فروغ کے لیے اس تنظیم کے قیام کی طرف راغب کیا تاہم اب تک ہونے والی پیشرفت ہماری توقعات سے کم ہے، اس لیے مضبوط تر شراکت داری کے لیے رفتارکار کو تیز کرنے کے اقدامات کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے ڈی ایٹ تنظیم برائے اقتصادی تعاون کے ایجنڈے کو مستعدی سے آگے بڑھانے پر سیکریٹری جنرل سید علی محمد موسوی کی بھی تعریف کی۔ ڈی ایٹ سربراہ کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ترک ہم منصب بن علی یلدرم سمیت کئی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیںکیں۔ بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ علاقائی تنازعات اور مسائل کو حل کرنے میں ترکی نے ہمیشہ بھرپور کردار ادا کیا۔ ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں، پاکستان اور ترکی نے مشکل کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔

ضرروت اس بات کی ہے کہ سیاسی استحکام کے لیے عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے مابین ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کوششیں بار آور بنائی جائیں، قومی ایشوز پر مناسب فورم پر مکالمہ کو فروغ دیا جائے، ہر بات کا میڈیا میں تماشا نہ بنایا جائے، سیاسی درجہ حرارت کم کرکے حکومت بہت سے اقتصادی اہداف کی طرف مثبت پیش رفت کرسکتی ہے، جب کہ عدالتوں میں زیر سماعت ہائی پروفائل کیسز کو قانون کے احترام کے مطابق ٹریٹمنٹ ملنا چاہیے، عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے بعد چوتھے ستوں کو بھی اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنی چاہیے، ایک سنجیدہ فکری، سیاسی اور علمی معاشی مشاورت قومی مفاد میں ہے، مسائل بے شمار ہیں۔

واضح رہے فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے پاکستان میں تعینات افغان سفیر عمر زخیل وال سے ملاقات میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، جنرل باجوہ نے کہاکہ دہشت گردی سے پاکستان اور افغانستان بہت متاثر ہوئے ہیں تاہم دہشتگرد حملے خطے میں امن کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتے۔ ادھر وزارت خزانہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر صحت مندانہ سطح پر موجود ہیں اور آیندہ مہینوں میں مثبت معاشی رجحانات کو تقویت ملنے کے ساتھ یہ ذخائر صحت مندانہ سطح پر برقرار رہیں گے۔

بہرکیف اگر بقول وزیراعظم ملک معاشی سمت کی درستگی کی جستجو میں آگے بڑھا ہے تو اسے خوش آیند کہنا چاہیے۔ معاشی حقائق قوم کی امانت ہیں، ہر چیز شفافیت کے ساتھ منظر عام پر آنی چاہیے۔ اس وقت ملک کو اقتصادی، سیاسی، سماجی اورا سٹرٹیجیکل بریک تھرو کی اشد ضرورت ہے۔ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

 



Source link