مسئلہ اقتدارکا نہیں، کردارکا ہے


پاکستان میں جمہوریت کی علمبردار سیاسی جماعتوں میں بھی خاندانی یا شخصی آمریت ہی موجود ہے۔ (فوٹو: فائل)

پاکستان میں جمہوریت کی علمبردار سیاسی جماعتوں میں بھی خاندانی یا شخصی آمریت ہی موجود ہے۔ (فوٹو: فائل)

دنیا میں حکمرانی روزِ اول ہی سے ریاست کا ایک اہم جزو ہے اور ہر معاشرے میں کلیدی کردار کےطور پر دکھائی دیتی ہے۔ اس حکمرانی کو مختلف ادوار میں اور مختلف اشکال میں تاریخ نے اپنے صفحات میں سمویا۔ کہیں یہ دور قدیم میں بادشاہت کی شکل میں معاشرے میں رائج رہی تو کبھی دور جدید میں جمہوریت کی شکل میں موجود ہے۔ کبھی نظامِ کمیونزم نے دنیا میں تہلکہ مچا کر رکھا تو کبھی آمریت اپنی مختلف اشکال میں نظر آتی رہی۔ غرض ہر دور میں حکمرانی کی مختلف اقسام دکھائی دیتی رہیں لیکن ان اقسام میں سے جو دو سب سے مقبول ہوئیں وہ جمہوریت اور بادشاہت ہیں۔

بادشاہت کا نظام صدیوں سے دنیا میں رائج ہے اور آج کے جدید دور میں بھی موجود ہے جبکہ جمہوریت دور جدید کا مقبول ترین نظامِ حکومت ہے۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو پاکستان میں نہ تو جمہوریت اپنی اصل شکل میں صحیح طور پر قائم ہوسکی اور نہ ہی کوئی اس ادھوری اور خستہ حال جمہوریت کو بادشاہت سے تبدیل کرسکا۔ البتہ مختلف ادوار میں آمریت نے اپنے رنگ ضرور دکھائے لیکن آمریت چونکہ مستقل طور پر قائم نہیں رہ سکتی چنانچہ کچھ عرصہ دور آمریت کے بعد پھر سے جمہوریت آتی رہی لیکن جمہوریت کے پردے میں طاقت ہمیشہ آمروں کے پاس ہی رہی۔ جمہوریت کی یہ بگڑی ہوئی شکل جو پاکستان میں اس وقت رائج ہے، بنیادی طور پر انگریز کی ہی عطا کردہ اور برصغیر کے عوام کےلیے خصوصی پیشکش ہے جو برطانوی راج میں برصغیر کی عوام کی نفسیات کو مدنظر رکھ کر اصل جمہوریت میں مختلف تبدیلیوں کے بعد پیش کی گئی۔ اور وہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان و بھارت، دونوں نے اسی شکل میں قائم رکھنے کو ترجیح دی اور آج بھی اسی شکل میں قائم ہے۔

بھارت نے تو وقت گزرنے کے ساتھ کچھ تبدیلیاں کرکے نظام کو بہتر کرلیا لیکن پاکستان میں اب اسی خستہ جمہوریت کے باعث حالات یہ ہیں کہ نہ تو ہم مکمل جمہوریت میں ہیں نہ بادشاہت میں۔ جمہوریت کے پردے میں بادشاہت کا سا نظام دکھائی دیتا ہے۔ دراصل ہم بنیادی طور پر مفاد پرستوں کا گروہ ہیں چنانچہ ہم جمہوریت کی ان ہی چیزوں کو پسند کرتے ہیں جو ہمارے مفاد میں ہوں اور بقیہ چیزوں کو اپنے مفاد کی خاطر اپنے انداز میں ڈھال دیتے ہیں۔ پھر چاہے وہ قومی مفاد کے منافی ہو، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ اس مفاد پرستی میں عوام و حکمران تمام ہی لوگ اپنی اپنی بساط کے مطابق برابر کے شریک ہیں۔ پھر ہماری عادات بھی بادشاہت کے نظام کےلیے پسندیدگی ظاہر کرتی ہیں یا پھر یوں کہہ لیجیے کہ ہم شخصیت پرستی کی طرف مائل ہیں۔

اس کی مثال پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت سے لی جاسکتی ہے۔ ہر سیاسی جماعت کا دعوٰی ہے کہ وہ جمہوری جماعت ہے۔ اگر تین بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی ہی بات کرلیں تو تینوں جماعتیں جمہوریت کی سب سے بڑی علمبردار ہونے کا دعوٰی کرتی ہیں لیکن جمہوریت کی دعویدار یہ تمام جماعتیں خود آمرانہ روش پر چل رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) تو خود آمر ہی کی پیداوار ہے، ضیاء الحق نے اس جماعت کو پروان چڑھایا۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف بھی نظریہ ضرورت کا ایک مہرہ دکھائی دیتی ہیں۔ ایک کے لیڈر کو لندن سے پاکستان آنے کےلیے کلیئرینس کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور کلیئرینس نہ ملنے کے باعث وہ اپنی بیگمِ مرحومہ کی برسی میں بھی شرکت نہیں کر پاتا تو دوسرے کو ہر کام سے پہلے امپائر کے اشارے کا انتظار رہتا ہے۔

غرض تمام ہی جماعتوں کا رویہ اور کردار ان کے دعووں کی نفی کرتا نظر آتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی، دونوں ہی جماعتوں میں ان کے قیام سے لے کر آج تک ایک ہی خاندان کی حکمرانی قائم ہے۔ مسلم لیگ (ن) میں شریف خاندان کے علاوہ کوئی قیادت کے لائق نہیں سمجھا جاتا تو پیپلز پارٹی بھی بھٹو خاندان کی موروثی جماعت ہے۔ اسی طرح تحریک انصاف میں بھی لیڈر کی جگہ عمران خان کے علاوہ کسی اور کو دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تینوں ہی جماعتوں میں جمہور کا اگر کوئی کردار ہے تو صرف پارٹی ورکر کے طور پر یا نچلی سطح کے عہدوں میں۔ ایک عام نوجوان ان جماعتوں میں اعلیٰ درجے پر پہنچنے کا خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔ آپ خود ہی سوچیے کہ آپ کبھی یہ تصور کرسکتے ہیں کہ آپ اپنی قابلیت کے بل پر کسی جماعت کے لیڈر بن سکیں؟ یہی شخصیت پسندی اور مفاد پرستی عوام میں بھی سرایت کرچکی ہے، عوام بھی شخصیت پسندی کی جانب مائل ہیں۔

اب ہمیں اعتراف کرنا ہوگا کہ مجموعی طور پر ہم اپنی اقدار کو بھول چکے ہیں اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ ہم آج تک بنیادی مسائل سے ہی چھٹکارا حاصل نہیں کرسکے۔ کارکردگی کی بناء پر ووٹ دینے کے بجائے ہم کبھی پانچ دس ہزار روپوں کے عوض، کبھی کسی شخصی پسندیدگی کی خاطر، کبھی کسی ذاتی مفاد کی وجہ سے تو کبھی تو صرف ایک وقت کے اچھے کھانے کے عوض اپنے ووٹ کے ذریعے ان ہی لوگوں کو اقتدارکی باگیں تھما دیتے ہیں جو ہر بار صرف زبانی جمع خرچ، جھوٹے دعووں اور وعدوں تک ہی محدود رھتے ہیں۔ کسی بھی حکومت کی گزشتہ کارکردگی یا ماضی کو دیکھے بغیر محض وعدوں کی بنا پر اپنا مستقبل بھی انہی کو سونپ دیتے ہیں اور پھر یہ امید رکھتے ہیں کہ اب ہمارے مسائل کا مداوا ہوسکے گا۔

نہیں جناب! بالکل نہیں ہوگا۔ آپ کے مسائل اور تکالیف کو آپ کو ہی رفع کرنا ہوگا۔ قبر کا حال مردہ ہی جانتا ہے، سو عوام ہو کر خواص سے اپنے مسائل حل کرانے کی امید رکھنا فضول ہے۔ آپ کا مسئلہ آپ کے لیڈر کا مسئلہ نہیں کیونکہ وہ اس کلاس سے تعلق ہی نہیں رکھتا جس سے آپ کا تعلق ہے۔ وہ سڑکوں پر نوکریوں کی تلاش میں خوار نہیں ہوتا جیسے آپ کو ہونا پڑتا ہے۔ اس کے گھر میں بجلی بھی نہیں جاتی اور اس کے بچے آپ کے علاقے کے گورنمنٹ اسکول میں پڑھتے ہی نہیں تو وہ کیوں آپ کے مسائل کو سمجھے؟ یاد رکھیے کوئی بھی شخص آپ کی تکلیف کو محسوس کرنے کا دعوٰی تو کرسکتا ہے لیکن حقیقت میں اسے جب تک محسوس نہیں کرسکتا جب تک وہ خود اس کرب سے نہ گزرے۔

چنانچہ اگر آپ کے حکمران انتخابات کے وقت ہی اپنے اپنے حلقوں میں آپ کو دیدار کراتے ہیں اور پھر منتخب ہوکر نظر بھی نہیں آتے تو ان کا کوئی قصور نہیں کیونکہ انہیں بارہا آزما کر بھی پھر اقتدار دینے والے ہم ہی لوگ ہیں۔ اگر آپ کی رسائی آپ کے منتخب نمائندے تک ممکن ہی نہیں تو وہ آپ کے مسائل سے آگاہ ہو ہی نہیں سکتے۔ ہاں بس دعوٰی کرسکتے ہیں اور دعوٰی کرنے میں حرج ہی کیا ہے۔

ذرا غور کیجیے کہ آزادی کے ستر سال گزرنے کے باوجود ہم آج بھی اسی مقام پر کیوں ہیں جہاں روزِ اول تھے۔ ہم ابھی تک بنیادی مسائل سے ہی کیوں نہیں نبٹ سکے جبکہ ہمارے بعد آزاد ہونے والا چین آج دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور ہے۔ اور پھر اپنے اپنے پسندیدہ قائدین کی تقاریر کو، ان کے دعووں اور وعدوں کو سنیے اور ان کی گزشتہ کارکردگی دیکھ کر ان کے عمل کا اندازہ کیجیے اور اپنی موجوہ حالت زار پر نظر ڈالیے۔ آپ خود یہ بات ماننے پر مجبور ہوجائیں گے کہ مسئلہ ہمارے حکمرانوں کا نہیں بلکہ خرابی ہمارے اجتماعی اور قومی کردار میں ہے۔

شخصیت پسندی کو چھوڑ کر ایک بار صرف کارکردگی دکھانے والے اور وعدوں کو پورا کرنے والے کو ووٹ دیجیے، ملک خود ہی مسائل سے نکل کر ترقی کی راہوں پر آجائے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



Source link