امریکی وزیر خارجہ کا دورہ سعودی عرب


ایران کے خطے کے ممالک بالخصوص شام‘عراق‘ لبنان اور قطر کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں ۔ فوٹو: فائل

ایران کے خطے کے ممالک بالخصوص شام‘عراق‘ لبنان اور قطر کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں ۔ فوٹو: فائل

مشرق وسطیٰ کے ممالک کے باہمی تعلقات کے حوالے سے نئی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں مگر یہ تبدیلیاں امریکی پالیسیوں اور مفادات کے گرد گھومتی ہیں، گزشتہ کئی عشروں سے مشرق وسطیٰ میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا مرکز و محور امریکا ہی چلا آ رہا ہے‘ اب ایک بار پھر وہ مشرق وسطیٰ میں نئی پالیسیاں وضع کر رہا ہے جس پر عمل درآمد کے لیے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے اتوار کو ریاض میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے ساتھ سعودی عرب اور عراق کی رابطہ کونسل کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔

ان کے اس دورے کا مقصد خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنا ہے۔ ریکس ٹلرسن نے اجلاس میں شامل رہنماؤں کو باہمی تعلقات کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہوئے سعودی عرب اور عراق پر آپس میں تعاون بڑھانے پر زور دیا‘ اس موقع پر انھوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے ہماری امیدوں کے مطابق رابطوں کا عملی طور پر آغاز کر دیا ہے اور امید ہے کہ موجودہ مسائل کے حل کے لیے تعاون کو مزید بڑھائیں گے‘ سعودی عرب اورعراق کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تعلقات امریکی سیکیورٹی کو بہتر کرنے‘ استحکام اور وسیع مفادات کے حصول کے لیے اہم ہوں گے‘ امریکا ان اقدامات پر خوش ہے اور زور دیتا ہے کہ خطے کے استحکام کے لیے تعلقات کو وسعت دیں۔

ایران کے خطے کے ممالک بالخصوص شام‘عراق‘ لبنان اور قطر کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ لبنان میں حزب اللہ ایران کے تعاون ہی سے کام کر رہی ہے‘ شام میں بشارالاسد حکومت کو بچانے میں بھی ایران کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا‘ عراق میں بھی ایران کے حمایتی بڑی تعداد میں موجود ہیں اور قطر بھی ایران ہی کی حمایت کے جرم میں سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے قطع تعلقی کی سزا بھگت رہا ہے۔ اب امریکا ایران کے ان بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنے کے لیے سرگرم ہو گیا ہے اس کی کوشش ہے کہ سب سے پہلے عراق سے ایرانی اثرات کا خاتمہ کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ریکس ٹلرسن نے واضح طور پر مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی ملیشیا عراق سے نکل جائے‘ انھوں نے کہا کہ عنقریب عراق میں داعش کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ ریکس ٹلرسن نے خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کرتے ہوئے کہا کہ عراق پر عراقی شہریوں کا کنٹرول ہونا چاہیے۔

ان کی یہ بات بالکل صائب ہے مگر اس حقیقت سے بھی نظر نہیں چرائی جا سکتی کہ عراق کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور خلفشار کا ذمے دار بھی امریکا ہی ہے۔ عراق ایک پرامن اور خوشحال ملک تھا جس کو امریکا نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے تباہی سے دوچار کر دیا۔ اب امریکا وہاں سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بات کر رہا ہے‘ یہ دہشت گردی بھی اسی کے کردار اور پالیسیوں کا نتیجہ ہے‘ ایک جانب وہ عراق سے داعش کے خاتمے کی بات کر رہا ہے تو دوسری جانب ان شواہد کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ شام اور افغانستان میں داعش کو امریکی سی آئی اے سپورٹ کر رہی ہے۔ امریکا کے اسی دوغلے اور منافقانہ کردار کے باعث شام‘ عراق‘ افغانستان اور خلیجی ممالک مسائل سے دوچار ہوئے ہیں۔

صدام حسین کے کویت پر حملے کے بعد سے عراق اور سعودی عرب کے تعلقات کشیدہ چلے آ رہے تھے‘ اب دونوں ممالک نے باہمی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ رابطہ کونسل تشکیل دے رکھی ہے‘ دونوں برادر اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے قریب آنا خوش آیند ہے لیکن اس اتحاد کو کسی ایسی کوشش سے گریز کرنا چاہیے جس سے خطے میں نئے مسائل جنم لیں۔ امریکا بڑی مہارت سے سعودی عرب اور عراق کو تو ایک دوسرے کے قریب لے آیا ہے مگر قطر کے حوالے سے پیدا ہونے والے بحران پر ریکس ٹلرسن نے واضح کہہ دیا کہ سعودی عرب اور دیگر ممالک قطر سے بات چیت کے لیے تیار نہیں اور امریکا ان لوگوں کو مذاکرات پر مجبور نہیں کر سکتا اور نہ وہ کسی پر کسی حل کے لیے  دباؤ ڈال سکتا ہے۔

اگر امریکا دباؤ ڈالے تو قطر کے ساتھ دیگر خلیجی ممالک کا بحران چند دنوں میں ختم ہو سکتا ہے لیکن یہ امریکی مفادات کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ اگر امریکا عراق سے ایرانی گروہوں کو نکالنے کی کوئی کوشش کرتا ہے تو اس سے خطے میں نیا بحران اور مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ اس تناظر میں ایران اور خلیجی ممالک کے تعلقات میں مزید تناؤ اور بُعد پیدا ہو گا۔ ایران اور خلیجی ممالک کو اس نازک صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے آپس میں الجھنے کے بجائے ان مسائل کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے اور کسی ایسے اقدام سے گریز کیا جانا چاہیے جس کا نقصان بحیثیت مجموعی امت مسلمہ کو پہنچے۔



Source link