سڑک پر پتھر کوٹنے والی


رائیونڈ کے اسپتال کا گیٹ بند کردیا گیا۔ بلکتے لواحقین سے ڈاکٹروں نے کہا ’’یہاں جگہ نہیں ہے‘‘ اور پھر کچھ دیر بعد سڑک پر پتھر کوٹنے والی مزدور عورت نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے گھر ’’جاتی امرا‘‘ کے باہر ایک بچے کو جنم دے دیا۔

ہزاروں لاکھوں ایسی ہی کہانیوں میں ایک اور کہانی کا اضافہ ہوگیا ’’اور بس!‘‘ باقی اللہ اللہ خیر صلا۔ ہمارے وطن میں دو ہی طبقے رہتے ہیں جو بہت نمایاں ہیں، ایک وہ طبقہ ہے جو اپنا بلڈ پریشر چیک کروانے بھی بیرون ملک جاتے ہیں، جن کے نزلے زکام بھی بیرون ہی میں ٹھیک ہوتے ہیں، جو اپنی آخری سانس بھی بیرون کے اسپتالوں میں لیتے ہیں، موت کی آخری ہچکی بھی باہر ہی لیتے ہیں اور پھر ان کا مردہ ہمارے وطن کی زمین گھیرنے کے لیے لایا جاتا ہے اور مردہ دفن کرکے اوپر عالیشان مقبرہ بنادیا جاتا ہے۔

اکثر بہت بڑے قابض خاندانوں نے اپنے مردے دفنانے کے لیے قبرستان بھی اپنے محل ماڑیوں کے احاطوں میں بنا رکھے ہیں تاکہ سالانہ فاتحہ کے لیے گھر سے باہر نہ جانا پڑے اور ’’قابضین‘‘ کے مردے بھی عام غریب غربا کے مردوں سے علیحدہ رہیں۔

ایک مزدور پتھر کوٹنے والی نے اپنی ’’اوقات‘‘ کے مطابق بچے کو اسی سڑک پر جنم دے دیا جس پر بڑے ہوکر اس نے مزدوری کرنی ہے اور ’’رلتے کھلتے‘‘ زندگی گزار کر چلے جانا ہے اور یہ بیرون ملک نزلے زکام کی دوا لینے والے، جن کے لیے میں نے اصطلاح بنائی ہے ’’بیرونیے‘‘۔ ان بیرونیوں میں سبھی پیسے والے شامل ہیں، سیاستدان، جاگیردار، وڈیرے، خان، سردار، سجادہ نشین، مولوی حضرات، بڑے سرکاری افسر اور صنعت کار افسران، سب ’’بیرونیے‘‘ ہیں۔

ان کے پیسے بیرون ہیں، ان کی جائیدادیں، کاروبار بیرون ہیں، غریبوں کا حق مار کر یہ ’’بیرونیے‘‘ عیش و آرام کی زندگی گزارتے ہیں، انھیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ اچھے اعمال کرکے حقدار کو اس کا حق دے کر دکھی انسانوں کے کام آکر اوپر جائیں اور جنت کے دائمی مزے لوٹیں۔

یہ بیرونیے دنیا میں ہی اسی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں کہ اپنی جنت دنیا ہی میں بنا لیں، مربعوں میں پھیلی جنت، جس میں دودھ، شہد کی لبالب بھری نہریں بھی ہوں، فرحت بخش پھلوں سے لدے پھندے درخت بھی ہوں، جس پرندے کا گوشت کھانے کو من چاہا وہ پھر سے اڑ کر حاضر خدمت ہوگیا، اسے شکار کیا، کھایا اور پھر بچی کچھی ہڈیوں میں سے پھر کرکے وہی پرندہ اڑ گیا، حوریں بھی ان ’’بیرونیوں‘‘ کی جنت میں بھری پڑی رہتی ہیں، جس حور کو چاہا، دل لبھانے کو طلب کرلیا، غلام اور وہ بھی بے دام، ہر لمحہ حاضر، ٹھنڈے ٹھار کمرے، اونچی اونچی چھتوں کی بلند و بالا کھڑکیوں سے لٹکتے جھولتے ریشمی کپڑے کے دبیز پردے، کروڑوں کے لان، ہیروں کے پودے، درخت اور ہیروں کے پرندے، باغ میں گھومتے مور، ادھر ذرا ہٹ کے نہانے تیرنے کے لیے سوئمنگ پول اور ذرا فاصلے پر وسیع میدان، ہیلی پیڈ، ایئرپورٹ سے ہی ہیلی کاپٹر میں بیٹھے اور سیدھے گھر میں اترے۔ کار میں بیٹھے اور گھر کے صدر دروازے سے اندر داخل ہوگئے۔

ان بیرونیوں نے دنیا بھر کے قیمتی جانور بھی پال رکھے ہوتے ہیں، گھوڑے، گائے، بیل، بھینسیں۔ اللہ کی جنت میں تو کتے نہیں ہوں گے، مگر ان بیرونیوں نے کتے بھی پال رکھے ہوتے ہیں، ہر طرح کے خونخوار کتے، جانور اور انسان دونوں کتے۔ بھلا انھیں کیا لینا دینا کہ ایک پتھر کوٹنے والی میلی کچیلی مزدور عورت نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے دروازے پر بچے کو جنم دے دیا۔

خواجہ آصف یاد آگئے ’’اوئے! کوئی شرم کرو، اوئے! کوئی حیا کرو‘‘ یہ خواجہ آصف، خواجہ صفدر مرحوم کے بیٹے ہیں، جہاں مجھے یاد پڑتا ہے خواجہ صفدر کا وقت اپوزیشن میں ہی گزرا اور ایک آصف کرمانی ہیں، موصوف بھی بڑے مشہور ’’لے منّے دنّے‘‘ سیاستدان تھے۔ احمد سعید کرمانی کا وقت حکمرانوں کے ساتھ ہی گزرا۔ پچاس کی دہائی کے الیکشن میں بابائے سبز دیواراں مرزا ابراہیم قومی اسمبلی کا انتخاب جیت گئے تھے۔

الیکشن کمیشن نے اعلان بھی کردیا تھا، مگر رات ہونے سے پہلے ہی رات آگئی اور مرزا ابراہیم ہار گئے۔ احمد سعید کرمانی جیت گئے۔ ظلم اور ظالموں کے قبضے بہت پرانے ہیں۔ دانیال عزیز بھی اپنے بزرگوں سے بہت کچھ سیکھ چکے۔ انور عزیز کے بیٹے اور صاحب کردار مزدور رہنما میجر اسحاق کے بھتیجے۔ دانیال عزیز کیا کہیں! سعد رفیق بھی سڑک چھاپ عوامی رہنما ، خواجہ رفیق کے بیٹے ہیں۔

لاہور کی ایک سڑک پر جلسے کے بعد تانگے میں بینر لیے گھر جا رہے تھے کہ ظالموں نے گولیاں مار کر خواجہ رفیق کو مار ڈالا۔ خواجہ رفیق عوامی شاعر حبیب جالب کے یارغار تھے۔ خواجہ صفدر، انور عزیز، میجر اسحاق اور ان کے ساتھ حکمرانوں کے ساتھ ساتھ رہنے والے احمد سعید کرمانی بھی یاد آگئے۔ پہلے تین عوام کے ساتھ رہے۔

یہ تو پرانا قصہ ہے۔ ’’دو چار دنوں کی بات نہیں‘‘ ایک پتھر کوٹنے والی نے سڑک پر بچے کو جنم دیا، بچہ تو بچہ ہوتا ہے۔

یہ گلاب سا چہرہ‘ یہ شراب سی آنکھیں
اے غم جہاں لینا کچھ نئے شکار آئے

کس کا شعر ہے مجھے یاد نہیں ۔ گزشتہ کالم میں شاعر صہبا اختر کے گیت کا ذکر کیا تھا۔ اس فکر انگیز گیت کا آخری حصہ شاعر غلام علی وفا نے یاد دلایا۔ یہ گیت ایک نہ بننے والی فلم ’’جلتے دیپ بجھتے ارمان‘‘ کا تھا۔ اس گیت کو عظیم گلوکار مہدی حسن صاحب نے گایا تھا اور غلام علی وفا صاحب نے ہی بتایا کہ اس گیت کی دھن یا طرز موسیقار دیبو بھٹا چاریہ نے بنائی تھی۔ اچھی شاعری، اچھے خیال کو دہرا لینے میں کوئی حرج نہیں۔ صہبا اختر کا گیت ملاحظہ ہو:

تنہا تھی اور ہمیشہ سے تنہا ہے زندگی
ہے زندگی کا نام مگر کیا ہے زندگی

یاں پھول آرزوؤں کے کھلتے نہیں کبھی
بچھڑیں جو ایک بار وہ ملتے نہیں کبھی

سنسان راستوں کا تماشا ہے زندگی
سورج کو آنسوؤں کے سمندر میں پھینک دوں

جو میرا بس چلے تو ستاروں کو نوچ لوں
جھوٹے ہیں سب چراغ اندھیرا ہے زندگی

یہ مصرعے پچھلے کالم میں رہ گئے تھے:

اے جھوٹ اے فریب کی دنیا تجھے سلام
تیرے ہیں تو سنبھال یہ سارے صبح شام

تجھ کو قبول تجھ کو گوارا ہے زندگی



Source link