مقدمہ: تحریک؟ – ایکسپریس اردو


تحریک کے لغوی معنی حرکت دینے کے ہیں اور اصطلاح میں تحریک ایک اصولی، نظریاتی اور بامقصد جدوجہد کا نام ہے۔ کسی بھی تحریک کےلیے پہلی لازمی اور بنیادی چیز نظریہ ہوتا ہے۔ نظریہ ہی وہ اصل شئے ہے جس پر ایک تحریک کے قیام و دوام کا دارو مدار ہوتا ہے۔ ایک حقیقی تحریک مختلف اجزاء کا مرکب ہوتی ہے۔ کوئی تحریک جو بنیادی اجزائے ترکیبی سے محروم ہو وہ کسی بھی صورت تحریک نہیں کہلائی جاسکتی۔

ایک حقیقی اور مکمل تحریک کےلیے لازم ہے کہ اس کی بنیاد کسی ٹھوس نظریئے پر ہو اور تمام تر کوشش اس نظریئے کے پرچار اور اس نظریئے کو عملی شکل میں رائج کرنے کےلیے ہو۔ دنیا میں جتنی بھی تحریکیں چلی ہیں، ان سب کی بنیاد ایک نظریئے پر ہی تھی۔ مثلاً آج اگر کوئی ڈارون ازم کا قائل ہے تو اس کی بنیاد ڈارون کے تصورِ ارتقاء پر ہے، اگر کوئی مزدور راج کےلیے کوشاں ہے تو اس کی بنیاد کارل مارکس کے معاشی نظریئے پر ہے، اگر کوئی ریاست اور مذہب کے افتراق کا قائل ہے تو اس کی بنیاد سیکولر ازم پر ہے اور اگر کوئی اسلامی نظام کا علمبرادار ہے تو اس کی بنیاد اسلامی نظام حیات یا ہمارے ماحول میں نظریہ پاکستان یا نظریہ اسلام پر ہے۔ المختصر تحریک کی پہلی بنیاد یا اساس ’’نظریہ‘‘ ہے۔

کسی بھی تحریک کے لیے دوسری بنیادی چیز ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس پر سے نہ صرف یہ کہ تحریک کا آغازہوتا ہے بلکہ تحریک کو منظم طور پر چلایا جاتا ہے۔ ایک ایسی جماعت کےلیے پہلے پہل تو لازم ہے اس جماعت کے اپنے قائدین اور اراکین خالص اور مضبوط نظریاتی لوگ ہوں، جنہیں نہ صرف نظریے کی مکمل سمجھ ہو بلکہ نظریئے کی صداقت پر بھی کامل یقین ہو، نظریئے کی شرح پر بھی عبور ہو اور وہ قیادت کے بھی اہل ہوں۔ جماعت پر دوسری ذمہ داری یہ عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو صحیح معنی میں نظریئے کی سمجھ بوجھ عطا کرے، ان کی مکمل تربیت کرے، ان کے اندر جہدوجہد کا مادہ پیدا کرے؛ اور بقول اقبال ’’ایک ولولہ تازہ دیا میں نے دلوں کو‘‘ کے مصداق، ان میں ایک تازہ ولولہ پیدا کرے۔ مختصر یہ کہ اپنے اندر سے مکمل اصولی کارکن پیدا کرے جو ایک طرف جماعت کے معاون ہوں اور دوسری طرف دیکھنے والوں کےلیے باعث کشش اور نظریئے کی صداقت کا عملی ثبوت ہوں۔

جب جماعت مکمل طور پر تیار ہوجائے اور کارکن نظریاتی طور پر بالغ ہوجائیں تو اب عملی جہدوجہد کا مرحلہ آتا ہے۔

عملی جہدوجہد میں مختلف ذرائع سے عام لوگوں پر اپنا نظریہ واضح کیا جاتا ہے، موجودہ رائج نظام کے نقائص واضح کیے جاتے ہیں، باطل قوتوں کو للکارا جاتا ہے اور باقاعدہ ٹکراؤ ہوتا ہے۔ کوئی تحریک جب اس سطح پر پہنچ جاتی ہے تو اسے حقیقی مشکلات کا سامنا کرتا پڑتا ہے۔ اس مقام پر ایک طرف تو اپنی جدوجہد کو جاری و ساری رکھنا اور دوسری طرف باطل نظریات کا رد کرنا، عوام پر اپنا نظریہ واضح کرنا، باطل قوتوں کو للکارنا بلکہ باقاعدہ مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔ اور یہی اسٹیج ایک تحریک کےلیے انتہائی مشکل اسٹیج ہوتا ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ باطل ہمیشہ طاقت ور ہوتا ہے اور اس کے پاس تحریک کے کچلنے کے تمام وسائل موجود ہوتے ہیں جبکہ دوسرا گروہ اکثر و عموماً نہتے لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ عملی جدوجہد میں ایک اصولی اور نظریاتی تحریک کا خاصّہ یہ ہے کہ باطل کے ساتھ کبھی مصالحت یا معاہدے نہیں کیے جاتے بلکہ انتہائی مستقل مزاجی اور جاں فشانی سے اپنی جدوجہد جاری رکھی جاتی ہے۔ مصالحت کی ایک ہی صورت ہوتی ہے اور وہ یہ کہ اگر حکومت یا گروہ مخالف آپ کی بات تسلیم کرلے، آپ سے کچھ وقت مانگے تو اس صورت میں مصالحت ممکن ہے لیکن یہ بھی حقیقت میں مصالحت نہیں بلکہ جدو جہد میں کچھ لمحوں کا التوا یا وقفہ ہوتا ہے۔

حقیقی، اصولی اور نظریاتی تحریک کا ایک خاصّہ یہ بھی ہے کہ تحریک کسی ایک فرد یا چند افراد کے گرد نہیں گھومتی بلکہ تحریک ایک مستقل جدوجہد ہوتی ہے؛ اور اگر بالفرض کوئی ایک اہم لیڈر چل بسے تو اس کی جگہ دوسرا فرد لے لیتا ہے اور تحریک اسی آب و تاب سے جاری رہتی ہے۔ لیکن اس کےلیے لازم ہے کہ جماعت کے قائدین اور اراکین کی مناسب تربیت کی گئی ہو، جیسا کہ اوپر جماعت کی ذمہ داریوں میں بیان کیا جاچکا ہے۔

تحریک کےلیے کوئی ٹائم فریم بھی نہیں ہوتا بلکہ تحریک تو نسل در نسل چلتی ہے اور تحریک کی آخری منزل اپنے مقصد کا حصول ہوتا ہے۔

یہ تو ایک سیاسی اورعوامی تحریک کا عمومی خاکہ تھا لیکن تحریک کی اور بھی بہت سی اقسام ہوسکتی ہیں۔ یعنی کوئی شخص ذہنی و فکری اور علمی سطح پر تحریک کی بنیاد ڈال سکتا ہے۔ مثلاً سرسید احمد خان کی تحریک علی گڑھ، کوئی شخص اصلاح امت کی تحریک چلا سکتا ہے جیسے کپ علامہ محمد اقبال ؒنے اصلاح امت اور احیائے امت کی ایک علمی، فکری اور ذہنی تحریک برپا کی۔ غرضیکہ معاشرے، ملک اور قوم کی خاطر کی جانے والی کوئی بھی جدوجہد تحریک کہلائی جاسکتی ہے۔

پاکستان میں اگرچہ درجنوں چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں موجود ہیں جن میں سے کچھ کے ناموں میں ’’تحریک‘‘ کا لفظ بھی موجود ہے مگر تلخ حقیقت اور عریاں سچ یہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت کوئی ایک جماعت بھی نظریاتی جماعت نہیں؛ اور اگر نظریاتی رہنماؤں کی بات کی جائے تو خال خال ہی اس قوم میں نظر آتے ہیں۔ بقول کسے کہ نظریاتی لوگ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے۔ پاکستان میں واقعتاً نظریاتی سیاست اور نظریاتی لیڈر کی ضرورت ہے لیکن بقول اقبال:

پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلبِ سلیم

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



Source link