پندرہ پچاسی یا گھوڑے اور گھاس کا یارانہ


barq@email.com

[email protected]

ہمارے مسلسل پڑھنے والوں کو شاید ہماری وضع کردہ یہ ’’پندرہ پچاسی‘‘ اصطلاح سمجھ میں آ گئی ہوگی لیکن نئے پڑھنے والے شاید پوری طرح اس اصطلاح یا تناسب سے واقف نہ ہوں، اس لیے مختصر طور پر اس کا خلاصہ کیے دیتے ہیں:

دنیا میں یہ جو طبقات، اقوام، برادریاں، مذاہب، نظریاتی گروہ وغیرہ ہوتے ہیں اور بنتے بگڑتے رہتے ہیں یہ مستقل طبقاتی تقسیم نہیں ہے، مستقل طبقاتی تقسیم ’’پندرہ پچاسی‘‘ کی ہے جس کے ابتدائی سرے پر دو خیروشر موجود ہیں اور یہ کش مکش اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب رب جلیل کے حکم اور منشا کے خلاف ایک متکبر مغرور اور برخود غلط ہستی نے خود کو ’’برتر‘‘ جتاتے ہوئے ’’میں‘‘ کا نعرہ لگایا اور آدم کو اپنے سے کمتر سمجھ کر حقیر جانا۔

ہو سکتا ہے بلکہ یقیناً یہ دونوں نام آدم و ابلیس، افراد ،ہستیوں اور شخصیات کے بھی نام ہوں لیکن بنیادی طور پر یہ انسان ہی کے اندر خیر و شر کے دو مختلف و متضاد رشتوں، مزاجوں اور خصلتوں کا استعارہ ہے، کائنات میں صرف یہی انسان ہے جس میں بیک وقت یہ دونوں قوتیں پائی جاتی ہیں اور اسے اختیار دیا گیا ہے کہ یہ خیر کی طرف جا کر آدم بھی بن سکتا ہے اور شر پسند کر کے ابلیس بھی بن سکتا ہے۔

تاریخی اعتبار سے طبقاتی تقسیم کی ابتدا اس وقت سے ہوئی جب وافر خوراک کا دور ختم ہو رہا تھا اور کثرت آبادی اور قلت خوراک کے لیے کش مکش پیدا ہو رہی تھی۔ اس دور میں ایک گروہ تو سبزی یا غلہ خوروں کا وجود میں آیا جسے ہندی اصطلاح میں شاکاہاری اور انگریزی میں ویجی ٹیرین کہا جاتا ہے، جب کہ دوسرا گروہ گوشت خور شکاریوں کا وجود میں آیا، اسے ماساہاری یعنی گوشت خور نان ویجی ٹیرین کہا جاتا ہے۔

گوشت خور شکاری گوشت خوری کی وجہ سے حیوانیت پسند بھی تھا اور شکار کے لیے پتھر کا ہتھیار تراشتے ہوئے اسے آگ بھی مل گئی تھی، ہتھیار بھی اس کے پاس تھے۔ جب کہ سبزی خور غلہ خور زمین ہی کی طرح نرم مزاج امن پسند اور خاکسار تھا چنانچہ طاقتوروں نے اسے پہاڑی سے دھکیل دیا۔

دوسرے مرحلے میں زراعت کا دور شروع ہوا‘  زراعت کے لیے چونکہ ایک جگہ مستقل ٹھہرنا ضروری ہوتا ہے اس لیے بستیاں بسا کر ایک مشترکہ معاشرے کی بنیاد ڈالی جب کہ شکاری گوشت خور دوسرے مرحلے میں جانور پال بنا اور جانور چرانے کے لیے یہاں وہاں پھرنا پڑتا ہے اس لیے یہ خانہ بدوش صحرائی بن گیا۔

تیسرے مرحلے میں خانہ بدوش صحرائی نے بستیوں کو لوٹنا تباہ کرنا اور تاراج کرنا شروع کر دیا۔ وہ آتے تباہی مچاتے اور سب کچھ اڑا کر اپنے صحراؤں میں گم ہو جاتے، بچارے زراعت کار بستیوں والے پھر محنت سے سب کچھ دوبارہ حاصل کرتے تو وہی صحرائی یا کوئی دوسرا صحرائی جتھا آ کر تباہی مچا دیتا، ذہنی طور پر ارتقا کا سفر بھی جاری تھا چنانچہ لٹیرے نے سوچا کہ لوٹ کر چلے جانے سے بہتر ہے کہ مستقل طور پر قبضہ کر لیا جائے، ہتھیاروں مزاجی اور طاقت کے زور پر لٹیرے نے ’’محافظ‘‘ کا روپ دھارن کر لیا اور گائے کو ذبح کر کے کھانے کے بجائے دودھ دھو کر پینے  لگا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے کہ پندرہ فیصد اشرافیہ کچھ بھی کیے بغیر سب کچھ کھا جاتی  ہے اور پچاسی فیصد عوامیہ پیدا کرتے، بناتے، اگاتے ہیں، تعمیر کرتے، کھلاتے، بانٹتے ہیں  لیکن اس کے حصے میں پندرہ فیصد اپنی پیداوار بھی نہیں رہنے دی جاتی کیونکہ پندرہ فیصد چالاک اور عیار اشرافیہ سب کچھ چھین کر نچوڑ کر اور بٹور کر لے جاتا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ ’’سب کچھ پیدا کرنے‘‘ اور فراہم کرنے والوں کا پیٹ بھی خالی جیب بھی خالی اور گھر بھی خالی ہوتا ہے بلکہ گھر ہوتا ہی نہیں اور کچھ بھی نہ کرکے صرف باتوں نعروں اور ترانوں کے بتنگڑ بنانے والوں کے پیٹ بھی بھرے ہوئے، جیبیں بھی اور گھر بھی جو محل نما ہوتے ہیں انھی پچاسی فیصد خداماروں کی برکت سے، لیکن اس قصے کا ایک اور دردناک پہلو بھی ہے یہاں ہم ڈارون اور سیمارک کے ارتقائی اصول استعمال اور عدم استعمال پر نظر ڈالتے ہیں اس کے مطابق جو عضو زیادہ استعمال ہوتا ہے وہ قوی اور طاقتور ہو جاتا ہے اورجو عضو استعمال نہیں کیا جاتا یا کم استعمال ہوتا ہے وہ کمزور ہوتے ہوتے بالآخر معدوم ہوجاتا ہے۔

جسم اور دماغ کا بھی یہی سلسلہ ہے صدیوں بلکہ ہزاروں سالوں سے طبقہ اشراف نے عوامیہ کو باور کرایا ہوا ہے کہ سوچنا یا دماغ استعمال کرنا تمہارا نہیں ہمارا کام ہے، تمہارا کام صرف جسم استعمال کرنا ہے، چنانچہ مسلسل اس استعمال اور عدم استعمال نے اشرافیہ کے اجسام کو نازک اور کمزور بنا دیا ہے لیکن دماغ ابلیس کا کارخانہ ہو گئے ہیں، طرح طرح کی عیاریاں فنکاریاں چالاکیاں سیکھ گیا ہے، حتیٰ کہ ہر اُبھرنے والا ہر نظریہ یا مذہب بھی تھوڑے ہی دنوں میں یرغمال بنا لیتا ہے اور بچارا عوامیہ یا آدمیہ دماغ کو ایک طرف رکھ کر جسمانی محنت میں لگا رہا تو اس کے جسم اور طاقتور ہو کر اشرافیہ کے لیے اور زیادہ ’’کماؤ‘‘ بن گئے ہیں، اتنے کہ پچاسی فیصد عوامیہ مکمل طور پر ’’گائے‘‘ بن گیا ہے اور پندرہ فیصد اشرافیہ دودھ دوہنے والا۔ یہ درمیان میں بادشاہت جمہوریت آئین و قوانین اور طرز حکومت وغیرہ محض موقع کی مناسبت سے استعمال کیے جانے والے ہتھیار ہیں، بات وہی ایک ہے سب کچھ کما کر بنا کر پیدا کر کے پہنچا کر بھوکا رہنے والے پچاسی اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہوا سب کچھ بھیجنے والا پندرہ۔



Source link