کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی


پاکستان کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی سے نمٹنے کا ہے . فوٹو: فائل

پاکستان کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی سے نمٹنے کا ہے . فوٹو: فائل

کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن رئیس گوٹھ میں رینجرز اور سی ٹی ڈی کی کارروائی کے نتیجے میں انصار الشریعہ کا امیر اور دہشت گرد حملوں کا ماسٹر مائنڈ عبداﷲ ہاشمی اپنے ساتھیوں سمیت مارا گیا۔ ملک میں جاری دہشت گردانہ حملوں کے تناظر میں یہ ایک بڑی اور اہم کامیابی ہے کیونکہ اکثر دہشت گردانہ کارروائیوں کے بعد انصار الشریعہ کی جانب سے حملوں کی ذمے داری قبول کی جاتی رہی ہے۔ شنید ہے کہ اس گروہ کے  4 دہشت گرد روپوش ہیں جن کی گرفتاری کے لیے کوشش جاری ہے۔ مقابلے میں 8 دہشت گرد مارے گئے۔

جن واقعات کی ذمے داری انصار الشریعہ نے قبول کی تھی ان میں کرنل ضیاء اﷲ ناگی کی ٹارگٹ کلنگ، پولیس اہلکاروں، پولیس رضا کاروں کی ٹارگٹ کلنگ اور ایف بی آر کے گارڈز کی ٹارگٹ کلنگ شامل ہیں۔ انصار الشریعہ نے جتنی کارروائیاں کیں اس میں ایک خاص پمفلٹ پھینک کر وہ فرار ہوجاتے تھے۔ یہ ان کی کارروائیوں کا ایک مخصوص طریقہ کار تھا۔ تحقیقات میں علم ہوا ہے کہ انصار الشریعہ 12 سے 15 اعلیٰ تعلیم یافتہ دہشت گردوں پر مشتمل ایک گروہ تھا اور اس کی ٹارگٹ کلنگ ٹیم میں 6 سے 8 دہشت گرد شامل تھے۔ کراچی میں اس گروہ کی کارروائیوں کا آغاز 21 فروری 2017 میں ہوا جب گلستان جوہر میں ایک پولیس اہلکار کو شہید کیا گیا۔ انصار الشریعہ سے تعلق رکھنے والے یہ تمام دہشت گرد نظریاتی طور پر القاعدہ سے منسلک تھے، ان کے افغانستان سے روابط کے ٹھوس شواہد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس موجود ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ تمام دہشت گرد تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر نوجوانوں کو دہشت گردی کی ترغیب دیتے تھے۔

اس لیے لازم ہوگیا ہے کہ انصار الشریعہ کے مفرور دہشت گردوں سمیت دیگر شرپسند عناصر کے انسداد کی کوششیں تیز کی جائیں، کیونکہ یہ عناصر معصوم اذہان کو ورغلا کر دہشت گردی کے راستے پر چلنے پر راغب کرسکتے ہیں۔ ضروری ہوگیا ہے کہ تمام تر کالعدم جماعتوں کے باقی ماندہ عناصر اور نام تبدیل کرکے دوبارہ منظم ہونے والے گروہوں کی کڑی نگرانی کی جائے، وہ سیاسی جماعتیں جن کے ملیٹنٹ ونگز اور مسلح گروہ ہیں ان پر بھی خصوصی نظر رکھی جائے، یہ دہشت گرد تنظیمیں خود سے نہیں پنپ رہیں بلکہ انھیں کہیں نہ کہیں سے فنڈنگ لازمی کی جاتی ہے، ایسے میں ان کے لنکس تلاش کیے جائیں، سہولت کاروں کی نشاندہی کرکے ان کی سرکوبی کی جائے تاکہ کراچی سمیت ملک بھر میں دہشت گرد نیٹ ورکس کا کریک ڈاؤن مکمل ہوسکے۔ لازم ہوگیا ہے کہ انٹیلی جنس نیٹ ورک کو منظم و مربوط کیا جائے تاکہ دہشت گردوں کی کارروائیوں کو قبل از وقت روکا جاسکے۔ ملک میں امن کا قیام ہی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔

پاکستان کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی سے نمٹنے کا ہے‘ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے‘ یہ پاکستان کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر بھی ہے‘ یہاں مذہبی دہشت گرد تنظیموں کا وجود اس شہر کی ترقی کے لیے زہر قاتل ہے‘ لاقانونیت اس قدر بڑھی کہ حکومتی رٹ کو سرعام چیلنج کیا جانے لگا۔ حکمرانوں اور انتظامیہ نے سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی حالات سے نظریں چرائے رکھیں اور معاملات کو سدھارنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگز نے بھی صورت حال کو خراب کیا ہے‘ کسی بھی ملک میں سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکن جمہوری کلچر کو فروغ دیتے ہیں لیکن کراچی میں ایسا نہیں ہو سکا‘ ایک جانب سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگز ایک دوسرے سے برسرپیکار تھے تو دوسری جانب جرائم پیشہ گینگ عوام کو لوٹنے میں مصروف ہو گئے۔

ان کے ساتھ ہی مذہبی دہشت گرد گروہوں نے کراچی کو اپنی آماجگاہ بنا لیا‘ یوں کراچی میں لا اینڈ آرڈر بری طرح متاثر ہوا‘ پولیس کا نظام مفلوج ہو گیا‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں انتہا پسندوں نے جگہ بنا لی‘ آج کراچی جن حالات سے دوچار ہے‘ اس کے پس پردہ یہی محرکات ہیں‘ اگر حکومت‘ سیاسی جماعتیں اور اہل علم ایک صفحے پر آ جائیں تو کراچی سے تمام دہشت گرد گروہوں‘ کرمنل مافیا اور سیاسی جماعتوں کے مسلح جتھوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔بعض مذہبی جماعتوں پر تودہشت گردی اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں لیکن عوامی خدمت اور ان کے حقوق کے تحفظ کے نام پر وجود میں آنے والی سیاسی جماعتوں کا مسلح ونگز کو فروغ دینا تشویشناک امر ہے۔ رینجرز نے کراچی میں امن و امان قائم کرنے کے حوالے سے بے مثال کردار ادا کیا ہے لیکن یہ فرض صرف رینجرز کا نہیں سول انتظامیہ اور سیاسی جماعتوں پر بھی یہ بھاری فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے دل و جان سے میدان عمل میں اتریں۔



Source link