امریکا کی ناراضگی مول نہیں لینا چاہتے، خواجہ آصف


امریکا کی خواہشات کی تکمیل کیلئے پاکستان کی ترجیحات پر کوئی سمجھوتا نہیں، وزیرخارجہ- فوٹو: اسکرین گریب

امریکا کی خواہشات کی تکمیل کیلئے پاکستان کی ترجیحات پر کوئی سمجھوتا نہیں، وزیرخارجہ- فوٹو: اسکرین گریب

 اسلام آباد: وزیرخارجہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ امریکا کی خواہشات کی تکمیل کے لیے پاکستان کی ترجیحات پر کوئی سمجھوتا نہیں البتہ امریکا کی ناراضگی مول نہیں لینا چاہتے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ’’کل تک‘‘ میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن کی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے دوران ماحول میں تناؤ نہیں تھا اور ملاقات میں سول و ملٹری قیادت نے ایک ہی مؤقف کا اظہار کیا جب کہ امریکی وفد سے آرمی چیف کی ون آن ون ملاقات نہیں ہوئی۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کی خواہشات کی تکمیل کے لیے پاکستان کی ترجیحات پر کوئی سمجھوتا نہیں تاہم امریکا کی ناراضگی مول نہیں لینا چاہتے، ہمیں اپنے ذاتی قومی تشخص کو ابھارنے کی ضرورت ہے جب کہ امریکا کو راضی کرنے کے لیے وہ قیمت دینے کو تیار نہیں جو مشرف نے دی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت اور امریکا کے تعلقات ہم سے بہتر ہیں اور امریکا کا ہم سے تعلق افغانستان سے بہت بہتر ہے، ہم نے افغانستان اور بھارت کی بہ نسبت امریکا کی بہت زیادہ خدمت کی ہے، افغانستان کی سرزمین سے پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی ہورہی ہے اور بھارت مشرق کے ساتھ ساتھ مغرب کی جانب بھی فساد پھیلارہا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان نے بہادری کے ساتھ جنگ لڑی ہے اور لڑ رہا ہے، پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہیں نہیں جب کہ ہم جو بھی ’’مور‘‘ کریں گے اس میں ملک کےمفادات ترجیح ہوں گے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا سے ایکشن ایبل انٹیلی جنس کا مطالبہ کیا ہے اور امریکا نے پاکستان سے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور امریکی وفد کو پاکستان کے مؤقف کی سمجھ بھی آئی ہے، امید ہے آج کی امریکی وفد سے ملاقات اچھی اور نتیجہ خیز ثابت ہوگی جب کہ ملاقاتیں اگر نتیجہ خیز ثابت ہوں تو اچھی ہوتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کینڈین یرغمالیوں کی بازیابی کے بعد دونوں طرف سے اعتماد میں بحالی آئی ہے۔



Source link