ٹائی ٹٰینک کے مسافر کا آخری خط ایک لاکھ 26 ہزار میں نیلام


اصل ٹائی ٹینک بیلفاسٹ میں تیار ہوا، پہلے ہی سفر میں رفانی تودے سے ٹکرا کر غرق ہو گیا تھا
۔فوٹو؛فائل

اصل ٹائی ٹینک بیلفاسٹ میں تیار ہوا، پہلے ہی سفر میں رفانی تودے سے ٹکرا کر غرق ہو گیا تھا
۔فوٹو؛فائل

نیویارک: 105 سال قبل ڈوبنے والے جہاز ٹائی ٹینک کے ایک مسافر کا خط ایک لاکھ 26 ہزار پونڈ میں نیلام ہوا ہے جس کی پاکستانی کرنسی میں قدر ایک کروڑ 75 لاکھ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔

بحراوقیانوس میں غرق ہونے والے دنیا کےعظیم الشان جہاز ٹائی ٹینک کے آخری سفر کے دوران جہاز پر الیگزینڈر آسکر نامی ایک سیلز مین بھی اپنی بیوی ایلس کے ساتھ سفر کررہا تھا، بد قسمتی سے الیگزینڈر اس حادثے میں مارا گیا جبکہ اس کی بیوی کو بچالیا گیا۔ الیگزینڈر کا خط گزشتہ دنوں نیلامی کے لیے پیش کیا گیا، اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کہ جہاز سے لکھا گیا آخری خط ہے۔ نیلام گھر کے حکام کا اندازہ تھا کہ یہ خط  80 ہزار پاؤنڈ میں فروخت ہوگا لیکن خلاف توقع یہ ایک لاکھ 26 ہزار برطانوی پاؤنڈ میں نیلام ہوا۔

مسافر الیگزینڈر آسکر ہولورسن نے اپنی ماں کے نام اپنے آخری خط میں ٹائی ٹینک کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ایک شاندار جہاز ہے جس میں کھانے پینے کے ساتھ موسیقی کا بھی بہترین انتظام ہے، تمام انتظامات بہت عمدہ ہیں اگر سب ٹھیک رہا توہم آئندہ بدھ کی صبح تک نیویارک پہنچ جائیں گے لیکن اگلے ہی دن جہاز برف کے تودہ سے ٹکراکر ڈوب گیا۔

اپنے خط میں الیگزینڈر نے جہاز میں موجود مشہورترین شخصیت جان جیکب ایسٹر سے ملاقات کی تفصیلات بتانےہوئے لکھا کہ جان جیکب دنیا کے امیرترین کاروباری شخصیات میں سے ایک ہونے کے باوجود اسے عام آدمی لگا وہ دوسروں سے ذرا بھی مختلف نظر نہیں آیا۔

واضح رہے کہ ٹائی ٹینک 14 اپریل 1912 کو بحراقیانوس ایک برفانی تودے سے ٹکرانے کے بعد ڈوب گیا تھا اور اس  حادثے میں ایک ہزار 500 سے زائد مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔



Source link