امریکا اور پاکستان کے درمیان سب اچھا نہیں


امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد صورت حال میں تبدیلی آئی ہے۔ فوٹو: فائل

امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد صورت حال میں تبدیلی آئی ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان اور امریکا کے درمیان افغانستان ایشو اور حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے اختلافات بدستور  نظر آ رہے ہیں، امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کا حالیہ دورہ بھی ساز گار نہیں رہا۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں ملک اپنے اپنے طے شدہ موقف اور پالیسی ہی پر معاملات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ اس خطے میں امریکا کا بھارت کی جانب جھکاؤ اب ڈھکا چھپا نہیں رہا‘ گزشتہ روز ریکس ٹلرسن دہلی میں تھے‘ وہاں انھوں نے بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کی اور مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس میں بھی گفتگو کا رخ پاکستان، مبینہ انتہا پسند تنظیمیں اور چین کی جانب ہی رہا۔ افغانستان اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پاکستان کے بارے میں امریکا کے شکوے اور شکایات بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں‘ پاکستان کا اس بارے میں اپنا موقف ہے‘ اصل معاملہ اس خطے میں بھارت کا بڑھتا ہوا اثرونفوذ ہے۔

ساتھ ہی ایران اور چین بھی اب اس خطے میں اپنا کردار چاہتے ہیں جب کہ روس کے مفادات بھی تاحال وسط ایشیا میں موجود ہیں اور وہ بھی افغانستان میں اپنی حامی حکومت چاہتا ہے۔ ایسی صورت حال میں افغانستان ایک بار پھر طاقتور کھلاڑیوں کا پلے گراؤنڈ بنا ہوا ہے۔ امریکا کی حمایت سے افغانستان میں جو حکومت قائم ہے‘ اس نے بھارت کے ساتھ گہرے مراسم استوار کر رکھے ہیں اور بھارت کی افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری بھی موجود ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ افغانستان سی پیک کا حصہ اسی وقت بنے گا جب پاکستان اسے بھارت کے ساتھ تجارت کے لیے راہداری کی سہولت دے گا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کی حکومت اور بھارت ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو افغان ایشو خاصا پیچیدہ ہو گیا ہے۔

امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد صورت حال میں تبدیلی آئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کے منظرعام پر آنے کے بعد اب یہ تو طے ہے کہ امریکا فی الحال افغانستان سے نہیں جا رہا‘ اگر امریکا افغانستان سے جلد انخلا نہیں کرتا تو پھر طالبان کے ساتھ لڑائی جاری رہے گی۔ ادھر عالمی میڈیا میں ایسی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ افغانستان میں برسرپیکار گروپس میں سے کئی ایسے ہیں جن کے روس اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی روابط موجود ہیں‘ یہ صورت حال خاصی تشویشناک ہے۔ ان حالات میں پاکستان کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے انتہائی دانائی اور زیرکی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اسٹیبلشمنٹ اور جمہوری حکومت کو متحد ہو کر متفقہ پالیسی اختیار کرنا ہو گی کیونکہ اب امریکا کے تیور اچھے نظر نہیں آ رہے۔پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بدھ کو سینیٹ میں پالیسی بیان دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے  امریکا پر واضح کیا ہے کہ بھارت کا افغانستان میں کوئی کردار قبول نہیں، امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان کے خلاف بیان کے بعد حکومت نے سرنڈر نہیں کیا، نہ کوئی آرڈر لیا ہے اور نہ ہی کوئی دباؤ قبول کیا ہے۔ امریکا کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ اتنی لمبی جنگ سے افغانستان میں کیا حاصل کیا، 45 فیصد علاقے پر کابل کا کنٹرول نہیں، وہاں پر داعش بھی موجود ہے، 45 فیصد علاقہ داعش اور دہشت گردوں کو اپنے ٹھکانے بنانے کے لیے کافی ہے، انھیں ٹھکانے بنانے کے لیے پاکستان کی سرزمین نہیں چاہیے، ان کو اپنے گھر کو سنبھالنا چاہیے اور ذمے داری قبول کرنی چاہیے۔ وہ اپنی شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں جب کہ پاکستان کو کامیابیاں ملی ہیں، پاکستان اپنے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

پہلی دفعہ تمام اداروں نے ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر امریکیوں سے بات کی، امریکا نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، ہم نے کہا کہ آپ حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے ہمیں اطلاعات دیں ، ہم کارروائی کریں گے۔ امریکا نے کوئٹہ، پشاور، پنجاب، فاٹا سمیت کسی جگہ کانام نہیں لیا اور جب امریکی کمانڈر نے کوئٹہ شوریٰ کی بات کی ، ہم نے کہا کہ اس کا ایڈریس بتا دیں تو آج تک امریکا ایسا نہیں کرسکا اور نہ وہ کوئی ایڈریس بتائیں گے۔ افغانستان میں امریکا کی مدد کے لیے تیار ہیں لیکن ان کی پراکسی نہیں بنیں گے، افغان مسئلہ ملٹری آپریشن سے نہیں مذاکرات سے حل ہو گا، طالبان پر ہمارا اثر و رسوخ ختم ہو چکا ہے۔ افغانستان کی حکمران اشرافیہ کا مفاد اس میں ہے کہ افغان مسئلہ حل نہ ہو تاکہ وہ ڈرگز اور ہیروئن بیچتے رہیں۔

اس پالیسی بیان سے واضح ہوتا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان سب اچھا نہیں ہے۔آنے والے وقت میں کئی اور معاملات آشکار ہوں گے، حالات کا تقاضا یہ ہے کہ امریکا کے ساتھ خواہ کوئی بھی معاملہ کیاجائے ، اس میں اولیت پاکستانی عوام کے مفادات کو دی جانی چاہیے،  انتہا پسند گروہ کسی کے دوست نہیں ۔



Source link