نیا زمانہ‘ نئے صبح و شام پیدا کر


Amjadislam@gmail.com

[email protected]

ایک زمانہ تھا کہ نئی نسل سے اپنے بزرگوں کے کیے ہوئے کام کو جاری اور محفوظ رکھنے کی توقع کی جاتی تھی اور اسی کو زندگی کا اصل اصول سمجھا جاتا تھا۔ نئی سوچ اور نئے سوال کو پذیرائی کم کم ہی ملتی تھی کہ ایک طرف مذہبی گروہوں کے نمایندوں کی فکری جھکڑ بندی تھی اور دوسری طرف حاکم طبقوں کو چھوڑ کر ساری کی ساری خلق خدا پیداواری رشتوں کے ایک مخصوص اور ایسے ظالمانہ نظام کی چکی میں چپ چاپ پس رہی تھی جسے ’’تقدیر‘‘ کا نام دے کر اسے بیل کی طرح ایک بے نام اور بے انت سے کولہو میں جوت دیا گیا تھا۔ تعلیم‘ تحقیق اور تجسس کے دروازوں پر چابک بردار پہریدار ہمہ دم مستعد اور چوکس رہتے تھے کہ کوئی ’’عامی‘‘ ادھر سے گزرنے بھی نہ پائے۔ معلوم تاریخ کی حد تک یہ سلسلہ ویدوں سے لے کر گوتم بدھ کی تعلیمات اور وہاں سے یونانی فکر و فلسفہ کے ساتھ ساتھ آسمانی کتابوں میں دیے گئے انسانی حقوق اور علم کی اہمیت پر زور دینے اور اسے حاصل کرنے کی تلقین تک کسی نہ کسی شکل میں چلتا تو رہا مگر عملی طور پر اسے ہر انسان کے پیدائشی حق کا وہ درجہ نہیں دیا گیا جو اسے ملنا چاہیے تھا اور یوں کم و بیش پندرھویں صدی عیسوی تک انسانی معاشروں میں تعلیم اور تحقیق کا دائرہ عمومی طور پر حاکم طبقوں کی خوشنودی اور صوابدید تک ہی محدود رہا۔

مریکا کی دریافت‘ پرنٹنگ پریس کی ایجاد پاپائیت کے زوال اور علوم کی ترویج و ترقی کی علم بردار تحریکوں کے فروغ کا زمانہ کم و بیش ایک ساتھ ہی کیونکر ظہور پذیر ہوئے، یہ اپنی جگہ پر ایک الگ اور طویل بحث ہے مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اسی کے پہلو بہ پہلو صنعتی انقلاب نوآبادیاتی دور‘ سائنس کی ترقی‘ معاشی فلسفوں کے فروغ‘ جدید طرز حیات اور ٹیکنالوجی کا منہ زور اور تیز رفتار انقلاب ہماری زندگیوں کا حصہ بنتے چلے گئے اور یوں نئی دنیا پرانی دنیا سے اس قدر مختلف ہو گئی کہ اپنی آنکھوں پر اعتبار کرنا بھی مشکل ہو گیا۔ علامہ اقبال نے کہا تھا

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں

محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اب جوکچھ اس ایک صدی میں ہو گیا ہے اس کے بعد آیندہ کے بارے میں سوچنے کے لیے بھی ’’حیرت‘‘ کا ایک نیا جہان تعمیر کرنا پڑے گا کہ اب تو بات فلسفے اور سائنس دونوں کی حدوں سے آگے نکلی چلی جا رہی ہے اور صورت حال کچھ ایسی بن گئی ہے کہ

منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا

حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا

ہمارے جیسے نسبتاً پسماندہ اور تیسری دنیا کے ترقی پذیر معاشروں کا اپنی ہی دنیا کے کچھ حصوں سے فاصلہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ بعض صورتوں میں یہاں بھی ایک پر دو دنیاؤں کا گمان ہوتا ہے۔ انفرمیشن کی آزادی‘ فراوانی اور تیز رفتاری کے باعث کچھ نئے مسائل تو یقیناً پیدا ہوئے ہیں لیکن اچھی اور خوش آیند بات یہ ہے کہ اب ان مسائل کا حل ماضی کی طرح کچھ مخصوص طبقات کے بجائے ہر ایک کی دسترس میں آنا شروع ہو گیا ہے اور ایجاد و تحقیق ہوا اور روشنی کی طرح آزاد اور ایک مشترکہ انسانی سرمائے اور ورثے کی شکل اختیار کرتے چلے جا رہے ہیں۔

اس ضمن میں تعلیم اور بالخصوص اعلیٰ درجے کی تعلیم سے متعلق ادارے کس طرح سے پل کا کام کرتے اور کر سکتے ہیں۔ اس پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے  HEC یعنی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے گزشتہ دنوں ایک خصوصی محفل کا انعقاد کیا گیا جس کی رسمی میزبانی کے فرائض گجرات یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ادا کیے کہ اس کے وائس چانسلر اور انتظامی اسٹاف نے بڑی محنت اور خوش اسلوبی سے ایک ایسے مکالمے کا اہتمام کیا جس کے مرکزی مقرر تو HEC کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد تھے مگر حاضرین میں تعلیم‘ میڈیا‘ تدریس اور اصحاب و دانش پر مشتمل ایک ایسا پینل تھا جس کا ہر فرد منتخب بھی تھا اور واقف حال بھی۔ کہنے کو یہ ایک غیر رسمی سی محفل تھی جس کا بنیادی مقصد  HEC کی گزشتہ پندرہ سال کی کارکردگی کو سامنے لانا اور اپنے حاصل شدہ اہداف اور متعلقہ مسائل پر بریفنگ دینے کے ساتھ ساتھ رواں اور آیندہ منصوبوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنا تھا مگر جس خوب صورت‘مدلل اور بے تکلف انداز میں ڈاکٹر مختار احمد نے پوری صورت حال کا احاطہ کیا اور روشن اور تاریک گوشوں کی تفصیل بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ترجیحات اور عزائم کو واضح کیا۔

اس کا مثبت اثر یہ ہوا کہ یہ محفل’ نشستند و گفتند و برخواستند‘‘ کا سٹیریو ٹائپ بننے سے بچ گئی اور بہت سی کام کی اور نئی باتیں سامنے آئیں اور یہ دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا کہ معاصر دنیا میں ہائر ایجوکیشن کے ادارے کس طرح سے کام کر رہے ہیں اور ان کے تجربے سے ہم کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں کہ کل کو ہماری یونیورسٹیوں کا شمار بھی ورلڈ رینکنگ میں کہیں ہو سکے اور ہمارا غیرمعمولی انفرادی ٹیلنٹ کسی اجتماعی اور ادارہ جاتی صورت میں بھی دنیا کے سامنے آ سکے۔ معلوم ہوا کہ 2001 تک یہ ادارے UGC یعنی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے نام سے کام کرتا تھا اور عملی طور پر اس کی ذمے داری ایک پوسٹ آفس جیسی تھی جہاں ڈاک جمع اور تقسیم ہوتی تھی۔ قیام پاکستان کے وقف ہمارے پاس عملی طور پر صرف ایک مکمل یونیورسٹی تھی جب کہ دوسری ’’ہر چند کہیں کہ ہے‘ نہیں ہے‘‘ کا منظر پیش کر رہی تھی۔ 2001 تک 59 یونیورسٹیاں قائم ہو چکی تھیں جن میں کل ملا کر دو لاکھ چھہتر ہزار طلبہ و طالبات زیر تعلیم تھے جب کہ پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والے اساتذہ صرف 2% تھے جن کی پبلی کیشنز کی کل تعداد 850 تھی جو اب 2016 میں بڑھ کر (12000) بارہ ہزار ہو گئی ہے جب کہ پی ایچ ڈی فیکلٹی 26% تک پہنچ چکی ہے۔ اس وقت کل ملا کر 188یونیورسٹیاں کام کر رہی ہیں جن میں چودہ لاکھ سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہیں جن میں لڑکیوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اب تک دو لاکھ اکسٹھ ہزار تعلیمی وظائف جاری کیے جا چکے ہیں اور تقریباً 9ہزار پاکستانی طلبہ مغربی ممالک میں اعلیٰ ترین تعلیمی مدارج طے کر رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ایجوکیشن فیکٹریوں کی طرح غیرمعیاری یونیورسٹیوں‘ ان کے تعلیمی معیار ،نفع اندوزی اور اساتذہ کی ناقص کارکردگی کے مسائل بھی سامنے آئے۔ بی بی اے میں 48اور MBA میں36کورسز پڑھائے جانے کے باوجود فارغ التحصیل طلبہ کی اکثریت کی تعلیمی قابلیت ایک سوالیہ نشان کی حیثیت رکھتی ہے جب کہ اساتذہ کے انتخاب‘ ان کی تدریسی صلاحیت اور مسلسل تربیت کی کمی کے حوالے سے بھی وجوہات پر روشنی ڈالی گئی قابل تحسین بات یہ تھی کہ مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں میں مبالغے سے اجتناب کیا گیا اور زور اس بات پر دیا گیا کہ ہمیں حقیقت پسندی کے جوش میں حوصلے‘ امیدوار بہتری کے بارے میں مایوسی اور منفی سوچ کو غیرضروری ہوا دینے سے بھی گریز کا رویہ اپنانا چاہیے کہ تاریکی اور اس کی وجوہات کی وضاحت اور بحث میں پڑنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم اپنے حصے کی شمع جلانے سے اپنی بات کا آغاز کریں۔



Source link