پانی کا بحران – ایکسپریس اردو


پاکستان کا شمار پانی کی قلت والے ممالک میں کیا جاتا ہے۔ فوٹو:فائل

پاکستان کا شمار پانی کی قلت والے ممالک میں کیا جاتا ہے۔ فوٹو:فائل

ملک بھر میں پانی کی قلت میں مسلسل اضافہ بہت سے خطرات کی نشاندہی کر رہا ہے‘ پانی کی قلت ریاستی بدانتظامی‘ آبپاشی کے ناقص نظام‘ چوری اور پانی کی وافر مقدار کے ضیاع کا ماحصل ہے۔ پاکستان کا شمار پانی کی قلت والے ممالک میں کیا جاتا ہے۔ آبی ماہرین ایک عرصے سے ارباب اختیار کی توجہ اس جانب مبذول کراتے چلے آ رہے ہیں اگر پانی کے مسئلے سے اسی طرح صرف نظر کیا جاتا رہا تو وہ وقت دور نہیں جب ملکی سطح پر اس کا بہت بڑا بحران جنم لے لے گا۔ حکمرانوں کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے مگر ریاستی نااہلی اور سیاسی تنازعات کے سبب گزشتہ کئی دہائیوں سے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا گیا۔ ایک جانب ملک پانی کی قلت کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے تو دوسری جانب ریاستی بدانتظامی کے موجب ہر سال 30ملین ایکڑ فٹ پانی ضایع ہونا تشویشناک امر ہے۔

اب ایک بار پھر چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل(ر) مزمل حسین نے اس خطرے کی نشاندہی کی ہے کہ ملک میں مناسب انتظامات نہ ہونے سے پانی کی کمی کے سبب فصلوں کو سخت خطرات لاحق ہیں جب کہ پانی کے ضیاع کے باعث ساحلی علاقوں میں زمین کا کٹاؤ بڑھتا چلا جا رہا ہے‘ ملک میں سالانہ 145ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے لیکن مناسب انتظامات نہ ہونے سے صرف 14ملین کیوسک فٹ تک پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے‘ پانی کے ذخائر میں اضافے کے لیے ناگزیر ہے کہ ہر دس سال میں ایک بڑا ڈیم بنایا جائے۔

ایسی خبریں بھی آ رہی ہیں کہ پورے پنجاب میں زیرزمین پانی کی سطح بڑی سرعت سے گرتی چلی جا رہی ہے‘ لاہور اور صادق آباد کو اس حوالے سے حساس علاقے قرار دیا گیا ہے۔ محکمہ آبپاشی کی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور میں پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہری پانی استعمال کیا جائے گا‘ بلااجازت ٹیوب ویل لگانے پر سزا کا قانون بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ آبی ماہرین مسلسل متنبہ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ پانی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ڈیم نہ بنائے گئے توزرعی شعبہ تباہ ہوجائے گا۔شہروں میں پینے کا پانی کئی گنا مہنگا ہوجائے گا۔ اس لیے پانی کے ضیاع کو روک کر اس کی قلت پر قابو پانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔



Source link