قومی ترانے کی عزت پاکستان سے سیکھنی چاہئے، سونونگم


قومی ترانے کا معاملہ انتہائی حساس ہےاوراسے سینما ہال اورریسٹورنٹ وغیرہ میں نہیں بجانا چاہئے؛فوٹوفائل

قومی ترانے کا معاملہ انتہائی حساس ہےاوراسے سینما ہال اورریسٹورنٹ وغیرہ میں نہیں بجانا چاہئے؛فوٹوفائل

ممبئی: بھارتی گلوکار سونونگم نے کہا ہے کہ قومی ترانے کی عزت پاکستان سے سیکھنی چاہئے۔

پچھلے کچھ عرصے سے بھارتی گلوکار سونونگم اپنے گیتوں کے بجائے متنازعہ بیانات دینے کے حوالے سے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ اپریل میں اذان مخالف بیان دینے کے بعد سونونگم اب قومی ترانے کے معاملے پر لب کشائی کر کے ایک بار پھر بڑی مصیبت میں پھنس گئے۔

نوے کی دہائی کے مشہور ومعروف گلوکار سونو نگم کا کیرئیر گزشتہ کافی عرصے سے زوال کی جانب گامزن ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے نہ ان کا کوئی البم آیا ہے اور نہ ہی وہ کسی فلم میں گلوکاری کرتے نظر آئے ہیں۔ یہاں تک کہ بھارتی میڈیا میں انہیں ایک ناکام گلوکار قراردیا جارہا ہے جس کا کیرئیر ختم ہوچکا ہے۔ بے تحاشہ شہرت کے بعد جب انسان کو پے درپے ناکامیوں کا سامناکرنا پڑتا ہے تو وہ بوکھلا جاتا ہے اور اسی بوکھلاہٹ میں خبروں میں بنے رہنے کے لیے الٹی سیدھی حرکتیں کرتاہے، بھارتی گلوکار سونونگم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہواہے۔

رواں سال کی ابتدامیں سونونگم نے ٹوئٹر پر اذان مخالف بیان دے کر بھارت سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذباتوں کو مجروح کیا تھا۔ سونونگم نے اذان کو شور قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ روز صبح ان کی آنکھ اذان کی آواز سے کھلتی ہے،بھارت میں آخر یہ جبری مذہب پرستی کب ختم ہوگی۔اذان کے بارے میں نامناسب ٹوئٹس کرنے پر نہ صرف مسلمانوں نے بلکہ ہندو مت سے تعلق رکھنے والے کئی افراد نےبھی سونونگم کو آڑے ہاتھوں لیا تھا اور ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ابھی یہ معاملہ ٹھنڈا ہواہی تھا کہ سونونگم ایک بار پھر تنازعات کی زد میں آگئے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: سونونگم کے بعد شاہ رخ خان کی ساتھی اداکارہ کی بھی اذان سے متعلق ہرزہ سرائی

بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ برس بھارتی سپریم کورٹ نے سینما گھروں میں فلموں کی نمائش سے قبل قومی ترانہ لازمی بجانے کا حکم جاری کیا تھا، تاہم تین روز قبل عدالت کےاس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔ سماعت کے دوران کہا گیا کہ سینما میں فلم کی نمائش سے قبل لوگوں کو اپنی حب الوطنی ظاہر کرنے کے لیے قومی ترانہ بجائے جانے کے دوران کھڑے ہونے کی کوئی ضرورت نہیں اور یہ کہیں نہیں لکھا کہ اگر کوئی شخص قومی ترانہ بجنے کے دوران کھڑا نہیں ہوتا تو وہ محب وطن نہیں ۔ عدالت کے اس فیصلے پر گزشتہ روزگلوکار سونونگم نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان میں تمام لوگ اپنے قومی ترانے کی بےحد عزت کرتے ہیں، پاکستانی قومی ترانہ کہیں بھی بجایا جاتا ہے تو تمام پاکستانی اس کے احترام میں کھڑے ہوجاتے ہیں لہٰذا ہمیں پاکستان سے سبق سیکھنا چاہئے اور اپنے قومی ترانے کی بالکل اُسی طرح عزت کرنی چاہئےجیسے پاکستانی کرتے ہیں اور اس کے احترام میں کھڑا ہونا چاہئے‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہاں بہت سارے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ سینما ہال میں قومی ترانہ بجنا چاہئے جب کہ کچھ کہتے ہیں کہ نہیں بجنا چاہئے، تاہم قومی ترانے کا معاملہ انتہائی حساس ہےاور مجھے نہیں لگتا کہ اسے سینما ہال اورریسٹورنٹ وغیرہ میں بجانا چاہئے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: عدنان سمیع کی بھارت سے محبت ثابت کرنے کیلیے سپریم کورٹ پرتنقید 

سونونگم نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنے والدین کی بہت عزت کرتا ہوں اور یہ بات بھی جانتا ہوں کہ کچھ جگہوں پر انہیں عزت نہیں دی جاتی لہٰذا میں انہیں اس جگہ کیوں بھیجوں ، بالکل یہی بات قومی ترانے کے لیے بھی کہنا چاہوں گاکہ اگر کچھ جگہوں پر قومی ترانے کو عزت نہیں دی جاتی اور لوگ اس کے احترام میں کھڑے نہیں ہوتے تو بہتر ہے کہ وہاں ترانہ نہ بجایا جائے۔

واضح رہے کہ بھارتی گلوکار عدنان سمیع خان نے بھی دوروز قبل بھارتی حکومت سے اپنی وفاداری ثابت کرنے اور انہیں  خوش کرنے کے لیے عدالت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی ترانہ کبھی بھی اور کہیں بھی بجایا جائے اس کی عزت کرنے کے لیے لازمی کھڑے ہوں۔



Source link