ذوالفقار علی بھٹو کا طلبا سے خطاب


anisbaqar@hotmail.com

[email protected]

آج سے پچاس برس پہلے جب ڈاکٹر باقر عسکری این ایس ایف کے صدر تھے اور معراج محمد خان جنرل سیکریٹری تھے اور ذوالفقار علی بھٹو پیپلز پارٹی کے چیئرمین، دماغ پر زور دیا کہ ڈاؤ میڈیکل کالج میں طلبا سے خطاب کے اقتباسات یاد کروں، بڑی مشکل سے یاد آیا، واقعات سے پردہ اٹھاؤں۔

ایک خواب ہے جو گزر گیا۔ نئی امیدوں کا خواب، غریبوں کی امیدوں کا خواب، روٹی کپڑا مکان کا خواب، جو اسی کراچی شہر میں ذوالفقار علی بھٹو نے دن میں دکھایا، سوشلزم کا خواب، وہ بھی اسلامی سوشلزم کا، جس کی بنیاد صحابی رسول حضرت ابو ذر غفاری نے رکھی۔ وہ دن کی روشنی میں دیکھا کہ وہ دن کبھی تو آئے گا جب خلقت خداوندی سکون سے زندگی گزارے گی۔

اس کے لیے نوجوان جمع ہوئے اور وہ بھی آسانی سے نہیں، جب نہ انٹرنیٹ تھا نہ موبائل فون، لوگوں کو جمع کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ اب کیا تھا کہ شہر کے وسط میں ایک اہم ترین کالج کا جلسہ اور دور جنرل ایوب خان۔ رات کو حکومتی احکامات جاری ہوئے، ڈاؤ میڈیکل کالج میں جلسہ نہ ہوسکے مگر صبح سویرے ڈاکٹر باقر عسکری نے  حکومتی احکامات کو بے اثر کر دیا۔ انتظامیہ نے رات کو کالج میں موٹی زنجیروں سے لوہے کے گیٹ کو تالا لگا کر بند کر دیا تھا۔ اس گیٹ کو توڑنے کے لیے کوئی راضی نہ ہوتا تھا آخرکار سوچنے کے بعد لیاری کے مال بردار ٹرک ڈرائیور کو اس کام پر معراج محمد خان نے راضی کیا۔ بقول ڈاکٹر باقر عسکری کے دروازے پر ٹکر مارنے کے لیے پھر بھی ٹرک ڈرائیور نے چند ہزار روپے لیے، اس کالج کا مین گیٹ کھل گیا۔ پھر کیا تھا 11 بجے دن کے بعد سے جلسے کے انتظامات شروع ہوگئے اور ساڑھے چار بجے کے بعد ایک عظیم الشان جلسہ شروع ہوگیا۔

جس میں ذوالفقار علی بھٹو نے طلبا، مزدور اور کسانوں کے لیے پیکیج کے اعلانات کیے اور اقتدار میں آنے کے بعد ان پر عمل درآمد کرنے کا اعلان کیا۔ شہریوں کے لیے رہائشی زمینیں، فیسوں میں رعایت اور کسانوں کے لیے مختصر اعلانات (وقت گزرتا گیا اور ذوالفقار علی بھٹو کی الیکشن کمپین چلتی رہی، طلبا جوق در جوق بھٹو کی گزرگاہوں پر جمع ہوتے رہے)۔ بھٹو کی ٹرین جس اسٹیشن سے گزرتی وہاں عوامی ریلوں کی طوفانی آوازیں آتی گئیں۔ یہ پہلا موقع تھا جب مسلم لیگ کا پلڑا پاکستان میں ہلکا ہوکر اوپر اٹھ گیا۔ اور یہ واضح ہوگیا کہ خیبر سے کراچی تک جو کام شہید حسن ناصر نے کیا تھا اس میں بہار آنے کو ہے لیکن کم عمری تو خود دوربینی کی مخالف ہے۔ وہ دیکھ نہ سکے کہ ہم تو کم عمر ہیں، کابینہ کس کی ہوگی، خصوصاً زرعی پالیسی کو وڈیرے اور چوہدری کیسے چلنے دیں گے اور اگر ملک میں رجعت پسندوں نے مذہب کی آڑ میں رد انقلاب کی تحریک چلائی تو اس کا سدباب کیا اور کیسے ہوگا کہ ان کی تحریک کو ناکام بنائیں گے اور انقلاب کا یہ سفر کیسے آگے بڑھے گا۔

1968ء میں شام کے وقت ہم بے قرار تھے جیسے کہ نعروں کے ساتھ گرم خون بھی بھاپ کی شکل میں جلسہ گاہ میں اڑ رہا ہو۔ ملک میں پہلی بار کم آمدنی والوں کے لیے باہر کے دروازے کھلے۔ البتہ قومی صنعت کے طور پر جن اداروں کو لیا گیا بشمول بینک وہ اقدام فیل ہوا۔ کیونکہ سرکاری ملازمین کی تیزی سے کام کرنے کی عادت نہیں اور ان کی معلومات بھی کم تھیں مگر کوئی بات نہیں انسان تجربات کے بعد ہی سیکھتا ہے۔ اسکولوں اور کالجوں کے قومیانے کی پالیسی کامیاب رہی البتہ آنے والی حکومتوں نے ان اداروں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ آج تو یہ عالم ہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی بھی لوگوں سے ڈونیشن لے رہی ہے اور کراچی یونیورسٹی خسارے میں، شہری ادارہ، کراچی کوڑے کا ڈھیر بن گیا ہے۔

میٹروپولیٹن کے ملازمین دو تین ماہ ہوگئے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ سندھ حکومت بھٹو کی تصویر اور اقوال کو شرمندہ کر رہی ہے۔ جب خزانہ عروج کی سمت رواں تھا اور ملک میں پہلی بار بہاروں نے رخ کیا تھا اور شادابی نے ڈیرے ڈالے تھے۔ مگر حکمران ٹولہ چونکہ قدامت پرستی کی پوشاک میں ملبوس تھا وہ اپنے آقا اور محسن کی جانب متوجہ ہوا اور مذہبی انتہا پسندوں نے مذہب کا نعرہ لگا کر نہ صرف جمہوریت کو ڈی ریل کردیا بلکہ ضیا الحق کو لاکر افغانستان میں سیاسی مداخلت کا آغاز کیا اور یہ تمام کام امریکا کے زیر سایہ ہوا اور جب سے اب تک مذہب کے نام پر سیاست جاری ہے جب کہ تختہ دار تک لے جاکر بھی ان سیاست دانوں نے چین نہ پایا اور ان وڈیروں نے جو بھٹو کے ساتھی تھے اور اقتدار کی کرسی پر بیٹھے رہے جن میں عبدالحفیظ پیرزادہ اور اس دور کے دیگر لیڈروں نے بھی ذوالفقار علی بھٹو سے دغا کی، جب کہ وہ وقت وفا تھا۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب مقدمہ چل رہا تھا معراج محمد خان بیگم بھٹو کے پاس گئے اور انھوں نے مشورہ دیا کہ بھٹو صاحب کے لیے تحریک سے جیل کے پھاٹک کھولنے ہوں گے، کیونکہ صورتحال کچھ اسی طرف جاتی نظر آرہی ہے تو بیگم صاحبہ نے چند دنوں کے بعد ملنے کی درخواست دی کہ وہ اپنے ساتھیوں اور پارٹی کے اکابرین اور خصوصاً وکلا سے مشورہ کرکے بتائیں گی، بہرصورت جب تقریباً 20 روز گزر گئے اور معراج محمد خان نے دوبارہ رجوع کیا تو بیگم نصرت بھٹو نے تحریک کو بے سود قرار دیا اور فرمایا کہ بھٹو صاحب بغیر کسی تحریک کے باہر نکل آئیں گے جب کہ بین الاقوامی صورتحال اس کے برعکس تھی۔

امریکا نے منصوبہ بندی کر رکھی تھی کہ وہ افغانستان میں کسی صورت بھی سوشلسٹ حکومت برداشت نہیں کرے گا، وہ عالمی پیمانے پر مسلمانوں کو اس کے خلاف اکٹھا کرکے افغانستان اور ایشیائی ممالک میں مسلم انتہا پسندی کو فروغ دے گا۔ لہٰذا ایسی صورت میں ذوالفقار علی بھٹو اور ان جیسے دوسرے دوستوں معمر قذافی کو برباد کرکے چھوڑے گا۔ لہٰذا ضیا الحق کو پاور میں لانے کے لیے 9 ستاروں کا جال بچھایا گیا اور ضیا الحق کو لانا مقصود تھا، سو وہ آئے اور پاکستان کو ایک سخت گیر مذہبی اسٹیٹ بناکر دم لیا اور مختلف مکاتب فکر کے انتہاپسندوں کے جال کو بچھایا گیا مگر اس سے بھی امریکا کو اپنے من پسند اہداف حاصل نہ ہوئے تو اب وہ اعتدال پسند اسلام کی حمایت میں مصروف ہے، لہٰذا سعودی عرب کے ولی عہد نے اب اسلام کا اعتدال پسند رخ اپنانے کا عندیہ دیا ہے اور اب وہ اسی راہ پر گامزن ہے۔

خیر اس موضوع کو مزید زیر تبصرہ لانا غلط ہو گا کیونکہ بات ذوالفقار علی بھٹو کی ہو رہی ہے کہ پیپلز پارٹی کے اپنے ساتھیوں نے غلط تجزیہ کرکے بھٹو کو شہید کرنے کا راستہ ہموار کیا اور صورتحال اس قدر افسوس ناک تھی کہ میں پھانسی کے دن حیدرآباد میں تھا مگر کوئی مظاہرہ نہ ہوا بلکہ دن یوں ہی گزر گیا۔ بلکہ لاہور نسبتاً زیادہ کشیدہ تھا اور اب رہ گیا ذوالفقار علی بھٹو کے افکار اور ان کے ارشادات کی تو میں نے دیکھا کہ اسلام آباد میں منعقدہ یوم تاسیس کے جلسے میں جو تقاریر کی گئیں۔

اس میں پیپلز پارٹی کا پرچم تو وہی تھا لیکن طاقت کا سرچشمہ عوام بقیہ اسلامی سوشلزم اور دیگر عوامی خیالات کا فقدان تھا بس جمہور کے لیے کیا فرمودات ہوں گے، بس اصلاحات یعنی کاسمیٹک چینج ووٹ کے ذریعے معیشت اور معاش کا حصول خارجہ پالیسی میں افغانستان سے دوستی جب کہ افغانستان کا کلیدی خارجہ پالیسی کا مبلغ عبداللہ عبداللہ جو بھارت کے بغیر ایک قدم بھی آگے چلنے کو تیار نہیں، اب 50 برس بعد جب میں جلسے کی طرف نگاہ کرتا ہوں تو دور دور وہ نہیں جنھوں نے داغ بیل ڈالنے میں پارٹی کی مدد کی تھی۔

معراج محمد خان، امیر حیدر کاظمی، منور سہروردی، رشید حسن خان تو دنیا سے گزر گئے اور جو فضل خدا سے زندہ و جاوید ہیں ان کا تذکرہ خود ان کے لیے سودمند نہیں، مگر صد افسوس کہ ذوالفقار علی بھٹو کا راستہ بھی میر کارواں کو یاد نہیں، اب عوام کو ذوالفقار علی بھٹو کے اقوال بھی نہیں سنائے جا رہے، کراچی کی زمینیں بلڈروں کے لیے اب غریبوں کی بات دور ہوئی، درمیانی درجہ کی آمدنی والوں کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے۔ ہوس زر میں ڈوبے ہوئے لوگ لیڈر شپ میں نمایاں۔ آج ذوالفقار علی بھٹو کا وہ چہرہ یاد آرہا ہے جب این ایس ایف کے ایک وفد کو انھوں نے 70کلفٹن مدعو کیا تھا کہ ملک سے غریبی کیسے دور کی جائے گی جدید دنیا کو پیغام محبت کیسے دیا جائے گا۔ مگر وہ اب ایک خواب ہوکے رہ گیا ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *