ذرا اس دیوانگی پر غور کیجیے


zahedahina@gmail.com

[email protected]

دنیا کے جغرافیے پر نظر کیجیے تو ہر طرف ایک ہنگامہ بپا ہے۔ مسلح تصادم ہیں، خانہ جنگی اور خانہ بربادی کے مرحلے ہیں۔ بے خانماں افراد کے قافلے ہیں جو ایک براعظم سے دوسرے براعظم کی طرف سفر کررہے ہیں۔ جان ہارتے ہوئے بچے اور برباد ہوتی ہوئی عورتیں ہیں۔

پناہ کی تلاش میں سمندروں کا سفر کرنے والے ہیں جن کی کشتیاں ساحل کے قریب پہنچ کر ڈوب جاتی ہیں۔ ہم اپنے ملک پر نگاہ کریں تو قوم کی رہنمائی کرنے والوں کے لبوں سے نفرت اور اشتعال کے شعلے لپکتے ہیں۔ گھر اور شہر خاکستر ہورہے ہیں۔ امن کی بات کرنے والے احمق اور بزدل سمجھے جاتے ہیں۔

انیسویں اور بیسویں صدی میں یورپ مقامی اور عالمی جنگوں میں الجھا ہوا رہا لیکن یورپ کے دانشوروں اور مدبروں نے بیسویں صدی میں دو عالمی جنگیں جھیلنے، کروڑوں انسانوں کی ہلاکتوں اور اپنے وسائل کے بربادی کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ وہ مزید جنگوں کا سامان نہیں کریں گے۔ لیکن دوسری طرف وہ کھرب پتی تھے جن کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اسلحہ ساز کار خانے دولت کا انبار سمیٹتے ہیں۔ انھوں نے یہ طے کیا کہ اب یہ اسلحہ تیسری دنیا کے ملکوں میں استعمال ہوگا۔ اس طرح ان ملکوں کی آبادی میں کمی ہوگی اور ان کا اسلحہ بھی فروخت ہوتا رہے گا۔

امن کا معاملہ صرف ہتھیاروں کی تخفیف کا ہی نہیں، ان انسانوں کا بھی ہے جو لاکھوں کی تعداد میں ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور اپنے اندر نفرت اور عداوت کی بارودی سرنگیں لیے پھرتے ہیں۔ ان نفرتوں نے کتنے ہی علاقائی تنازعات کو جنم دیا ہے۔ اس وقت شمالی کوریا اور امریکا کے صدور کے درمیان جس طرح بیانات کی گولہ باری ہورہی ہے، اس سے ساری دنیا تھرائی ہوئی ہے۔

اب سے 42 برس پہلے کی ایک تقریر یاد آتی ہے جو ایک امن دوست خاتون بیٹی ولیمز نے کی تھی اور کہا تھا کہ ’’ہمارے چاروں طرف وسائل کی بربادی روزانہ کی جنگجویانہ روش کی بدولت ہورہی ہے جب کہ انسان تباہی کے عالم میں جی رہے ہیں۔ کچھ تو جلد آنے والی موت کی امید میں، جو ان کو ناامیدی سے رہائی دلائے گی۔ ہمیں اس بات پر بہت غصہ آتا ہے کہ ہر منٹ، 500,000 ڈالر جنگ اور جنگ کی تیاریوں پر خرچ ہورہے ہیں جب کہ ہر ایک منٹ میں آٹھ سے زیادہ انسان بے توجہی کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔ پھر بھی ہر روز 720 ملین ڈالر فوجی سازو سامان پر خرچ کیے جاتے ہیں۔

ذرا اس دیوانگی کی ترجیح پر غور تو کیجیے۔ ذرا اس طرح بھی سوچیے کہ اگر کسی طرح ایک منٹ میں اسلحے پر خرچ ہونے والے 500,000 ڈالر کو ان 12,000 افراد میں تقسیم کردیا جائے جو اس دن مارے جانے والے ہیں تو ہر بد قسمت کو فی منٹ چالیس ڈالر سے کچھ زیادہ مل جائے گا اور وہ بد بختی میں مرنے کے بجائے عیش سے زندگی گزار سکے گا۔

اگر پورے دن اسلحے پر ہونے والا خرچ بچالیا جائے تو ان بارہ ہزار مرجانے والوں میں 720,000,000 ڈالر تقسیم ہوں گے۔ گویا ہر بدقسمت کو ایک دن میں 60,000 ڈالر مل جائیں گے۔ وہ لوگ جو ہمارے زمانے میں عسکریت کی تائید جاری رکھتے ہیں، وہ نسلِ انسانی کو ایسی خودکشی کی طرف مائل کررہے ہیں کہ جب ہر طرف موت اور بربادی ہوگی۔‘‘

دسمبر 1971ء میں جب پاکستان اور ہندوستان کے درمیان طبل جنگ بج رہا تھا، اس وقت امن عالم کے لیے سرگرم مسز آزے لایونائز (Mrs. Aase Lionaes) نے کہا تھا:

’’دو ترقی پذیر قومیں جنھیں افلاس کے چنگل سے نکلنے کے لیے امن کی اشد ضرورت ہے، جنگ میں مصروف ہیں اور جس طرح دنیا بھر کے سیاست دان معصوم جانوں پر لگتے ہوئے نئے زخموں سے اپنی آنکھیں چرائے اور دلوں کو پتھر کیے بیٹھے ہیں قابلِ شرم ہے۔ جنوبی ایشیا ایک تباہ کن جنگ کے دہانے پر ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگوں کے لیے تیاریاں ہورہی ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں بچے بھوک سے مررہے ہیں اور کروڑوں ہاتھ ایک وقت کی غذا کی دعا کے لیے اٹھے ہوئے ہیں۔ ان مفلوک الحال ملکوں میں اگر کوئی شے فراواں ملتی ہے تو وہ اسلحہ ہے۔‘‘

مسز آزے لایونائز کے ان جملوں کو پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔ آج بھی ہمارے کروڑوں ہاتھ ایک وقت کے کھانے کی دعا کے لیے اٹھے ہوئے ہیں اور ان بے بس لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کی بجائے ہم کھربوں روپے اسلحے کی خریداری اور جنگ کی تیاری پر خرچ کررہے ہیں۔

امن کی خواہش دنیا کی اکثریت کے سینوں میں پرورش پاتی ہے۔ لیکن بیشتر لوگوں کے خیال میں اگر وہ ایک ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کے باشندے ہیں تو وہ ’محفوظ‘ ہیں۔ یہ اتنا بڑا فریب نفس ہے جس کا ثانی نہیں۔ ایٹمی ہتھیار کاغذ پر خواہ کتنے ہی زور شور سے ثابت کیے جائیں کہ وہ ہماری حفاظت کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ اجتماعی خودکشی کا ہتھیار ہیں۔

دنیا کے مختلف علاقوں میں اور خود ہمارے خطے میں جس طرح 15 یا 25 برس کے لڑکے اور نوجوان خودکش جیکٹ پہن کر اور اس کا بٹن دبا کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مذہب اور اپنی روایات کا تحفظ کررہے ہیں، وہ اس عمل سے کسی بھی چیز کے تحفظ کی بجائے اپنے ارد گرد کی ہر خوبصورت اور زندہ چیز کو تہس نہس کردیتے ہیں۔ کچھ یہی عالم ایٹمی قوت رکھنے والے ملکوں کے سربراہوں کا ہے جن میں اس وقت امریکا اور شمالی کوریا کے صدور سرفہرست ہیں۔

اس بارے میں ہمیں امریکا کے مشہور و معروف ادیب اور دانشور جون کینتھ گالبرائتھ کی بات یاد رکھنی چاہیے کہ: ’’وہ سچائی، لوگ جس سے آنکھیں چرانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ ہے کہ یہ چھوٹا سا کرۂ ارض جنگوں میں جوہری ہتھیاروں کے تبادلے کے بعد باقی نہیں رہ سکتا۔ جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ کیا ہم اپنے بچوں اور پوتوں کے لیے زندگی چاہتے ہیں تو جواب میں کہا گیا کہ ہاں ہم چاہتے ہیں۔ جب جوہری جنگ کے بارے میں پوچھا جاتا ہے، جو ہماری جانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، تو ہم اس کو ہمیشہ اپنے ذہنوں سے جھٹک دیتے ہیں۔ انسان نے اپنی فنا پذیری کے علم اور خیال کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ اور اب اس نے اس خیال کو بھی قبول کرلیا ہے کہ سب اکٹھے مرسکتے ہیں، کہ اس کی اولاد کا بھی وجود نہیں رہے گا۔ قبولیت کی اس صلاحیت پر ہم صرف تعجب ہی کرسکتے ہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ ہمارے اذہان ان خیالات کو قبول تو کرلیتے ہیں مگر ان کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ اس تصور کا عمل یا تو بہت بڑا ہے یا بہت مہیب ہے۔ ہمارے ذہن کسی دور دراز کے جنگل میں ہونے والی جنگ کا تصور کرسکتے ہیں اور اس کے مسترد کرنے کے عمل کو شروع کرسکتے ہیں۔ مگر جوہری ہولوکاسٹ کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس حقیقت کو سمجھ لینا ہی ہماری سیاست کا سب سے بڑا امتحان ہے۔‘‘

افسوس کہ اس وقت ملکی اور عالمی حکمران اس امتحان میں ناکام رہے ہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ’’امن‘‘ کو ایک غیر مرئی شے نہ سمجھیں۔ وہ ایک ٹھوس حقیقت ہے اور اس کے ایک ہزار ایک مفہوم ہیں۔ لہلہاتی کھیتیاں، ہرے بھرے پیٹروں کے درمیان چلتی ہوئی ہوائیں، فضا میں تیر جانے والے پرندے، اپنے آشیانے کے لیے تنکے چنتی ہوئی ننھی سی چڑیا، چولہے پر چڑھی ہوئی کھُد بُد کرتی ہنڈیا اور توے یا تنور سے آتی ہوئی گرم روٹی کی سوندھی خوشبو، ڈگمگاتے قدموں سے اپنی ماں کی طرف چلتا ہوا بچہ اور اس کے لبوں سے نکلتی ہوئی کلکاری، اپنی گڑیا کو سینے سے لگا کر ماں، نانی یا دادی سے جل پریوں کی کہانی سنتی ہوئی بچی، پریم کہانی سناتا ہوا کوئی گیت، شادی کی محفل میں ڈھولک کی تھاپ، رقاصہ کی پنڈلیوں سے لپٹے ہوئے گھنگھروؤں کی چھنک، اپنی تختی کو ملتانی مٹی سے لیپتی ہوئی کوئی لڑکی اس خیال میں گم کہ آج وہ اس پر کون سا نیا لفظ لکھے گی۔ ہر گھر، ہر گلی اور ہر چوبارے کے یہ پُر سکون مناظر ’’امن‘‘ کے مو قلم کی مصوری ہیں۔

اس وقت حقیقت یہی ہے کہ دنیا کے 162 ملکوں میں سے صرف 11 ملک ایسے ہیں جو کسی قسم کے تنازعے اور مسلح تصادم میں نہیں الجھے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ خوفناک یہ بات ہے کہ 2007ء سے دنیا میں امن کم ہوتا جارہا ہے۔ وہ بچہ جو ہنستے ہوئے پہلا قدم اٹھا رہا ہے اور وہ لڑکی جواپنی ماں کے پہلو سے لگی پریوں کی کہانی سن رہی ہے، اس کے لیے ’امن‘ اتنا ہی ضروری ہے جتنا دودھ کا ایک گھونٹ یا گرم اور گھی سے چیڑی ہوئی روٹی کا نوالہ۔ ہم کون ہوتے ہیں کہ اس سے دودھ کا یہ گھونٹ یا گرم روٹی کا نوالہ چھین لیں۔ ہم یقیناً اتنے بے رحم نہیں۔ ذرا اس دیوانگی پر غور تو کیجیے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *