میں آپ کا نوکر ہوں، بینگن کا نہیں!


جو شخص بھی جس سیاسی رہنما سے وابستہ ہے، وہ اس کے ہر سیاہ و سفید کو درست مانتا ہے۔
تصویر: انٹرنیٹ

جو شخص بھی جس سیاسی رہنما سے وابستہ ہے، وہ اس کے ہر سیاہ و سفید کو درست مانتا ہے۔
تصویر: انٹرنیٹ

ہمارے دیس میں عوام کی جذباتی وابستگی اپنے اپنے سیاسی رہنماؤں سے اس قدر زیادہ ہے کہ ہر ووٹر اپنے لیڈر کا وکیل دکھائی دیتا ہے۔ جو شخص بھی جس سیاسی رہنما سے وابستہ ہے، وہ اس کے ہر سیاہ و سفید کو درست مانتا ہے۔ بلکہ اگر ایسے ووٹر حضرات سے اتنا ہی پوچھ لیا جائے کہ کیا آپ کے سیاسی قائد سے کبھی کوئی غلطی بھی ہوئی ہے؟ تو کوئی بھی اس کا جواب دینے کے بجائے آپ کا سر پھوڑنے کو ترجیح دے گا۔ ایسے میں ہمارے ووٹر حضرات ووٹر کم اور وکیل زیادہ لگتے ہیں جو اپنے مؤکل کو ہمیشہ بےگناہ ثابت کرنے پر ہی تلے رہتے ہیں، چاہے سارا شہر داستانِ جرم کا گواہ ہو۔

ایسے وکیل نما ووٹروں کے ہوتے ہوئے کونسا سیاسی رہنما پریشان رہ سکتا ہے کہ کوئی اس کی کارکردگی کو پرکھ کر ووٹ ڈالے گا۔ پھر نہ جانے ایسا کیوں ہوتا ہے کہ لوگ ملک کی زبوں حالی کا رونا بھی روتے رہتے ہیں، حالانکہ ملکی فیصلے کرنے والوں کا چناؤ وکیلانہ اور مؤکلانہ طرز پر کرنے والے لوگ بھی یہی ہوتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کا اپنے قافلے کے ہمراہ کسی دیہاتی علاقے سے گزر ہوا تو اچانک اس کی نظر بینگن کے پودوں پر پڑ گئی۔ بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا کہ دیکھو یہ کتنی خراب سبزی ہے۔ پھر کیا تھا! وزیر سارے راستے بینگن کی وہ برائیاں بیان کرتا رہا جو قافلے میں شامل شاہی حکماء تک کو معلوم نہ تھیں۔

واپسی پر بادشاہ سلامت کا گزر پھر اسی راستے سے ہوا تو بادشاہ سلامت کو بینگن دوبارہ نظر آ گئے۔ لیکن اس بار بادشاہ سلامت نے عجب ارشاد فرمایا کہ دیکھو کتنی پیاری سبزی ہے یہ۔ پھر کیا تھا، وزیر موصوف نے بینگن کی وہ تعریف شروع کی کہ بادشاہ سلامت سمیت سب لوگ حیران رہ گئے۔ آخرکار بادشاہ سلامت نے وزیر سے پوچھ ہی لیا کہ آخر کیا ماجرہ ہے کہ جاتے ہوئے تم نے بینگن کی اتنی برائیاں بیان کیں اور اب آتے ہوئے اسی بینگن کی اتنی تعریفیں کر رہے ہو؟ تو وزیر نے بھی ہمارے آج کل کے ووٹروں کی طرح عجب ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ تاریخی بات کہہ ڈالی جو کم از کم ہمارے موجودہ وکیل نما ووٹرز کےلیے مشعل راہ ضرور ہے۔ وہ بولا،

’’میں آپ کا نوکر ہوں، بینگن کا نہیں۔‘‘

یہی صورتحال ہمارے موجودہ وکیل نما ووٹرز میں پائی جاتی ہے جو اپنا قیمتی ووٹ محض چند چھوٹے چھوٹے ذاتی فائدوں کے عوض گروی رکھ دیتے ہیں۔ ایسے میں علامہ اقبالؒ کے اس فارسی شعر کا وہ مصرعہ یاد آجاتا ہے جو انہوں نے انگریزوں کے ہاتھوں مہاراجہ گلاب سنگھ کو صرف پچھتر لاکھ کے عوض وادی کشمیر بشمول زمین، پہاڑ، انسان، حیوان، چرند، پرند کی فروخت کے بارے میں کہا تھا کہ:

قوم ہے فرد ختند و چہ ارزاں فروختند
(ترجمہ: قوم بیچ دی، اور کتنی سستی بیچ دی)

نہ جانے کب ہمارے وکیل نما ووٹر بھائیوں کو ہوش آئے گا کہ ووٹ کتنی قیمتی شے کا نام ہے۔ نہ جانے کب ہماری قوم بےجا وکالت چھوڑ کر ایک غیرجانبدار منصف کی طرح پرکھ کر حقداروں کو ووٹ دے گی۔ جب تک ہمارے ووٹرز وکیلانہ طرزعمل ترک کرکے منصفانہ طرزعمل پر نہیں آجاتے، ملک و قوم کے مستقبل میں کوئی بہتری نہیں آسکتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اب ہم لوگ مخصوص سیاستدانوں کے وکیل نما ووٹر بننا ترک کردیں اور وکیل کے بجائے ایک منصف بن کر ووٹ کا فیصلہ کریں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *