ایران میں نئی احتجاجی تحریک کا مستقبل کیا ہوگا؟


حالیہ مظاہرے سن 2009ء کے احتجاج سے مختلف ہیں، جلاوطن ایرانیاپوزیشن رہنما پرجوش دکھائی دے رہے ہیں

حالیہ مظاہرے سن 2009ء کے احتجاج سے مختلف ہیں، جلاوطن ایرانیاپوزیشن رہنما پرجوش دکھائی دے رہے ہیں

ایران کی انقلابی قیادت اپنی تاریخ کے ایک اور بڑے بحران سے دوچارہے،2017ء کے آخری دنوں میں  ایران ایک بار پھر زوردار مظاہروں کے گھیرے میں آگیا، اگرچہ مظاہرے2018ء کے ابتدائی دنوں میں خت ہوگئے تاہم ان کے اثرات تادیر واضح طوپر نظرآئیں گے۔ ایک اثر سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی گرفتاری ہے جنھیں موجودہ ایرانی صدر ڈاکٹرحسن روحانی کے حکم پر زیرحراست لیاگیا۔

ان پر الزام ہے کہ حالیہ مظاہروں میں انھوں نے اہم ترین کردار ادا کیاہے۔ مظاہروں کا یہ سلسلہ ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں 28دسمبر کو شروع ہوا، سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں مجموعی طورپر دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ غیرسرکاری ذرائع کے مطابق ایک ہزار افراد گرفتار ہوئے، بعض دیگر رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد50سے زائد ہے جبکہ گرفتارہونے والے 4000سے زائد ہیں۔ مظاہرین میں زیادہ تر ورکنگ کلاس سے تعلق رکھنے والے نوجوان تھے۔ ان کا کوئی لیڈر نہیں تھا، کوئی منصوبہ بندی محسوس ہوئی نہ ہی انھیں سوشل میڈیا پر مہم چلاکر انھیں منظم کیاگیا۔ تاہم وہ حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کررہے تھے۔

چارجنوری کو  پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل محمد علی جعفری نے اعلان کیا کہ ملک میں ’بغاوت‘ کو شکست دیدی گئی ہے۔ انھوں نے یہ اعلان اُس وقت کیا جب حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف حکومت کے حق میں بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ایران کے سرکاری ٹی وی چینل نے حکومت کے حق میں منعقدہ مظاہروں کو براہ راست دکھایا، جن شہروں میں حکومت کے حق میں مظاہرے کیے گئے ان میں کرمانشاہ، ایلام اور گرگان شامل ہیں۔ حکومت کے حق میں نکالے جانے والے جلوسوں میں افراد نے ایران کے قومی پرچم اور سپریم لیڈر خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، مظاہرین نے امریکہ کے خلاف نعرے لگائے گئے۔

میجر جنرل جعفری نے مزیدکہا: ’آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ96 کی بغاوت ختم کردی گئی ہے۔‘ ان کا اشارہ فارسی کیلنڈر کی طرف تھا جس کے مطابق رواں سال1396ہے۔ انھوں نے مزیدکہا کہ ’سکیورٹی کی تیاری اور لوگوں کی نگہبانی‘ کے باعث ’دشمنوں‘ کو شکست ہوئی اور تین صوبوں میں پاسداران انقلاب کے دستوں نے ’محدود‘ پیمانے پر کارروائیاں کیں۔ ان کے مطابق :’مظاہرے ہونے والی ہر جگہ پر 1500 افراد تھے جبکہ ملک بھر میں مظاہرے کرنے والوں کی تعداد 15ہزار سے زیادہ نہ تھی۔‘

یہ احتجاج سنہ 2009 میں اصلاحات کے حق میں ہونے والی ریلیوں کے بعد سب سے بڑا عوامی احتجاج ہے۔ اس کا سبب ایران میں عوام کا گرتا ہوا معیارِ زندگی اور کرپشن بیان کیاجاتاہے۔تاہم ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ’ملک کے دشمن‘ اس احتجاج کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’حالیہ دنوں میں ایران کے دشمنوں نے رقم، ہتھیار، سیاست اور خفیہ اداروں سمیت مختلف ہتھکنڈوں کو ایران میں حالات خراب کرنے کے لیے استعمال کیا ہے‘۔ البتہ میجر جنرل جعفری نے اس بغاوت کا الزام انقلاب مخالف ایجنٹوں، بادشاہت پسند قوتوں پر عائد کیا۔ ان کے الفاظ میں:’دشمنوں نے ایران میں ثقافتی، معاشی اور سکیورٹی خدشات پیدا کرنے کی کوشش کی‘۔ پاسداران انقلاب کے سربراہ نے مظاہروں کا الزام ’سابق حکام‘ پر بھی عائد کیا۔ تجزیہ کاروں پہلے ہی دعویٰ کررہے تھے کہ میجر جنرل جعفری کا اشارہ سابق صدر محمود احمدی نژاد کی جانب ہے۔ محض تین دن بعد ان کا دعویٰ درست ثابت ہوا۔

ان مظاہروں کا سبب کیاتھا؟ اگرسابق صدر مظاہروں کے پیچھے تھے تو انھیں ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ بعض تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ بیروز گاری میں اضافے اور اقتصادی پابندیاں اٹھائے جانے کے باوجود عام ایرانیوں کے معیار زندگی میںکوئی بہتری نہ آئی، ایرانی معیشت کے وہ شعبے بھی شدید مشکلات سے دوچارہوگئے جن کا انحصار تیل پر نہیں ہے۔ اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ بیروزگاری کی شرح12 اعشاریہ پانچ فیصد ہے لیکن لاکھوں نوجوان ایرانیوں میں بیروزگاری اس سے کہیں زیادہ ہے، ملک میں افراط زر کی شرح بھی دس فیصد ہوچکی ہے۔ استنبول میں قائم تحقیقی ادارے ’الشرق فورم‘ سے منسلک طامر بداوی کے بقول ایران میں جو ہو رہا ہے ’ وہ امیدوں کا بحران ہے اور لوگ شدید معاشی محرومی کا شکار ہیں۔‘ بعض ذرائع کا کہناہے کہ حالیہ مظاہروں کی صورت میں سڑکوں پر آنے والے وہی لوگ تھے جو اس سے قبل ایران امریکا جوہری معاہدہ پر جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر آگئے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جوہری معاہدے کے بعد ایرانی عوام کے لئے ترقی اور خوشحالی کے دروازے کھلیں گے تاہم دوبرس گزرنے کے بعد ان کے خواب پورے ہوتے نظرنہیں آرہے ہیں۔

ماہرین کا کہناہے کہ بے چینی کی حالیہ لہر کے بعد ممکن ہے کہ صدرحسن روحانی اپنی معاشی پالیسیوں میں کچھ بنیادی تبدیلیاں لائیں، وہ نئے ذرائع آمدن پیدا کرنے پر مزید رقم خرچ کریں، بڑھتے ہوئے افراط زر پر قابوپانے کے لئے ایرانی ریال کی شرح مبادلہ تبدیل کریں اور  ملک میں پھیلتی ہوئی بدعنوانی کو ختم کرنے کے لئے مزید اقدامات کریں۔ حالیہ مظاہروں کی ایک بڑی وجہ بھی بدعنوانی کے بڑھتے ہوئے واقعات ہیں۔ ماہرین کا کہناہے کہ ان ممکنات کا مطلب ہے کہ صدرروحانی کو اپنی پالیسی میں بڑی تبدیلی لانا ہوگی۔ وہ اب تک سرکاری اخراجات میں عدم توازن پر قابوپانے کے لئے روایتی بجٹ پالیسی اختیار کئے ہوئے تھے ،اسکا ایک مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایران کو ایک پرکشش ملک بنانا تھا۔نتیجتاً اس دوران میںوہ مالی بدعنوانیوں کے خلاف کوئی کارروائی کرتے تو انھیں ملک کے طاقتور معاشی حلقوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا رہا لیکن شاید اب صدر کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں رہا۔ ایرانی معاشیات  کے ماہر مہرداد عمادی کا کہنا ہے کہ ’’ایران میں بدعنوانی کی جڑیں ختم کرنا صدر روحانی کے لیے کسی صبر آزما مہم سے کم نہیں ہوگا لیکن اب صدر کے پاس دوسرا راستہ نہیں بچا۔ لوگوں میں مایوسی بہت بڑھتی جا رہی ہے، اس قسم کی صورت حال میں آئے روز مزاحمت اور ہنگامے ہوتے رہیں گے‘‘۔

جب ہم ایران کے اندر بار بار پیدا ہونے والی بے چینی کے اسباب کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ 2013ء میں حکومت سنبھالنے کے فوراً بعد صدر حسن روحانی نے سابق صدر محمود نژاد کی پالیسی ترک کر دی تھی جس کے تحت متوسط اور کم آمدن والے ایرانی خاندانوں کو حکومت کی جانب سے نقد رقوم فراہم کی جاتی تھیں، انھوں نے اگلے سال مارچ سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے جو بجٹ پیش کیا ہے اس میں حکومتی اخراجات کو کم رکھنے کی کوشش کی۔ اب چونکہ اقتصادی پابندیاں ختم ہوچکی ہیں، ایسے میں اس قسم کی کفایت شعاری کو ایرانی عوام برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔دوسری طرف بڑی تعداد میںغیر ملکی کپمنیاں بھی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے سے ہچکچا رہی ہیں، جس کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے خلاف سخت موقف ہے۔ مہرداد عمادی کے بقول ’ان کی کمپنی کے ایک مطالعے کے مطابق ملک کی معاشی صورت حال پر ایرانی عوام کی بے اطمینانی کی پانچ وجوہات ہیں۔ بے روزگاری، قوت خرید میں کمی، بدعنوانی، کمزور ایرانی ریال اور ایرانی کے مختلف حصوں کے درمیان دولت کی غیر مساوی تقسیم‘‘۔

مطالعے میں دیکھا گیا کہ مندرجہ بالا وجوہات میں سے پہلی تین میں اس سال مزید ابتری دیکھنے میں آئی ہے۔ مثلاً ایران کے شمال مشرقی علاقوں میں نوجوانوں میں بیروزگاری کا تناسب 45 فیصد تک بڑھ چکا ہے اور ان علاقوں میں روزگار کے مواقع مزید کم ہو رہے ہیں۔ایک سال پہلے ایک امریکی ڈالر 36,000 ایرانی ریال کے برابر تھا لیکن اب اس کی قیمت 42900 ہوچکی ہے۔ ممکن ہے کہ حکومت بیرون ملک ایرانی اثاثوں سے رقم واپس لا کر ایرانی کرنسی کومزید گرنے سے بچا لیں لیکن خطرہ یہ ہے کہ اس قسم کے اقدام سے غیر ملکی سرمایہ کار مایوس ہو جائیں گے، پچھلے ہی ماہ آئی ایم ایف نے ایرانی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ یہ پالیسی ایرانی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔مہرباد عمادی ایرانی معیشت کی بُری کارکردگی کا ذمہ دار اقتصادی پالیسی کی بجائے دوسرے عوامل کو سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے’ خرابی کی اصل وجہ کاروباری شعبے میں پاسدارانِ انقلاب اور دیگر مذہبی اداروں کی دخل اندازی ہے‘۔

ایک اندازے کے مطابق ایران کے معاشی اثاثوں کا 60 فیصد سے زیادہ پاسدارانِ انقلاب اور ایسے ہی دیگر اداروں کے ہاتھ میں ہے، چونکہ یہ ادارے ٹیکس ادا نہیں کرتے، اس لئے چھوٹی کاروباری کمپنیوں میں مقابلے کی فضا متاثر ہوتی ہے اور نئی ملازمتیں پیدا نہیں ہوتیں۔مہرباد عمادی کے بقول روحانی حکومت یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہی تھی، وہ  تمام اداروں کو ٹیکس کا حساب کتاب رکھنے کی پابند اور کاروباری دنیا کو مزید شفاف بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔تاہم بداوی کو خدشہ ہے کہ حکومت معیشت میں کسی قسم کی فوری بہتری نہیں لا سکے گی۔ ہوسکتا ہے کہ حکومت روزگار کے مواقع بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے لیکن یہ ممکن نہیں کہ حکومت غریب خاندانوں کو نقد مالی امداد بند کرسکے، بینکوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے معیشت میں تنوع پیدا کرنے جیسے مسائل پر قابو پانے کے لیے صرف دیرپا پالیسی ہی کام کر سکتی ہے۔ان کے بقول :’میرا خیال ہے کہ ایرانی حکومت کی پالیسی میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں آئے گی۔ حکومت کوشش کرے گی کہ وہ لوگوں سے کھل کے بات کرے، ان کے سامنے کوئی نئی پالیسی رکھے، لیکن اصل مسئلہ ایرانی معیشت کے ڈھانچے کی خرابیاں ہیں، جیسے معیشت میں تنوع کا فقدان، بینکوں کے مسائل اور دیگر دنیا کے ساتھ ایران کے مسائل، خاص طور پر ٹرمپ کے ساتھ۔‘

ایران کی جلاوطن اپوزیشن رہنما مریم رجاوی( سربراہ ، مجاہدین خلق) ان مظاہروں کے تناظر میں بہت پرجوش دکھائی دے رہی ہیں۔ فرانس سے ویڈیوخطابات کے ذریعے وہ مظاہرین کو ہدایات دے رہی ہیں، ان کا کہناہے کہ  ملاؤں کا اقتدار تمہارے سامنے نہیں ٹھہر سکے گا،کیونکہ آپ ہی فیصلہ کن قوت ہو،آنے والے دنوں میں تمہاری تعداد میں اضافہ ہوگا۔ وہ مظاہرین کو منظم اور متحد ہونے کا کہہ رہی ہیں اور انھیں جلد ہی ثمرات ملنے کی نوید سنارہی ہیں۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہروں کے حق میں ٹویٹس کیں جبکہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے ایران کی جانب سے اس موقف کو ’مکمل طور پر بے معنی‘ قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ مظاہروں میں بیرونی ہاتھ ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہمدان سمیت بعض شہروں میں  اب بھی مظاہرے ہورہے ہیں، جن میں گرفتار مظاہرین کی رہائی کے مطالبات کئے جارہے ہیں۔ مریم رجاوی کہتی ہیں کہ  یہ 2009ء کے احتجاج سے مختلف ہیں۔ آٹھ برس پرانے مظاہرے برسراقتدار گروہ میں اختلافات کا نتیجہ تھے جبکہ حالیہ مظاہرے خراب معاشی صورت حال کی وجہ سے پھوٹے ہیں۔ اسلئے وہ پرامید ہیں کہ احتجاج بڑھتاچلاجائے گا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *