دامن کو ذرا دیکھ۔۔۔ – ایکسپریس اردو


fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

عمران خان نے جتنی شہرت کرکٹ میں پائی اس سے زیادہ سیاست میں۔ کہتے ہیں ناں کہ جو مشہور زیادہ ہوتا ہے اس کے مخالفین بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ جلنے والے، حسد کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں ہوتی۔ بیچارے کپتان پر برا وقت آیا ہوا ہے۔

شادی کسی بھی انسان کا بالکل نجی معاملہ ہے۔ میڈیا کو اس پر سیاست چمکانے کی ضرورت نہیں لیکن کیا کیجیے کہ شروع ہی سے کچھ قوتیں عمران کی نجی زندگی کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ ایسا کن قوتوں کے کہنے پر ہو رہا ہے۔

سیاسی حریف جب سیاست کے میدان میں شکست نہ دے سکے تو ان کی ذاتی زندگی کو ادھیڑ کر رکھ دیا جب کہ ماضی بہت سوں کے داغدار ہیں لیکن عمران خان نے کبھی کسی کے عشق، شادی اور تعلقات کو نشانہ نہیں بنایا، یہ ان کی شرافت ہے، کسی نے گلوکارہ کو گھر ڈال لیا، کسی نے کسی شادی شدہ بال بچوں والی گلوکارہ کی طلاق کروائی، کسی نے کئی کئی شادیاں کر رکھی ہیں، کسی نے محبوب بیوی کے گھر جانے کے لیے شارٹ کٹ بنوائے۔

سب درست، لیکن عمران خان اگر تیسری شادی کر رہے ہیں تو قصوروار۔ جب کہ ان کی زندگی میں ابھی کوئی نہیں۔ البتہ جمائما کو طلاق دینے کا فیصلہ بالکل ہی غلط تھا۔ اول تو غیر ملکی اور غیر مذہب کی لڑکی سے شادی کرنا ان کی بڑی غلطی تھی۔ پھر جب وہ دو بچوں کے باپ بن گئے تو اسے طلاق دینا ایک ناپسندیدہ فعل تھا۔ دروغ برگردن راوی۔

سنا یہ بھی گیا تھا کہ ان کو کہا گیا تھا کہ سیاست میں ایک جماعت انھیں اسی وقت سپورٹ کرے گی جب وہ جمائما کو طلاق دیں گے۔ انھوں نے ’’بڑوں‘‘ کے کہنے پر طلاق دے دی۔ پھر قرعہ فال ریحام خان کے نام نکلا۔ خیر سے وہ بھی شادی شدہ اور جوان بچوں کی ماں تھیں۔ وہ بھی عمران خان کی کرشماتی شخصیت کی اسیر اس حد تک ہوئیں کہ اپنے شوہر سے طلاق لے کر عمران کے نام کا سہاگ کا جوڑا پہن لیا۔ دوسری شادی کے وقت کا انتخاب بہت غلط تھا۔ پشاور میں پبلک اسکول کا سانحہ ہوچکا تھا۔ خدا جانے یہ شادی کن کی ایما پر ہوئی تھی۔

اس وقت بھی ساری تفصیلات میڈیا پر آرہی تھیں۔ سب کچھ اس وقت بھی سامنے تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے عمران خان کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا۔ مگر وہ بری طرح پھنس چکے تھے۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ جمائما کی اور دونوں بچوں کی بددعا لگی۔ ہوسکتا ہے درست ہو۔ لیکن جمائما تو آج بھی ہر مشکل گھڑی میں عمران کے ساتھ کھڑی ہے۔

جہاں تک دیگر خواتین سے تعلقات کی بات ہے تو سیاست اور وزارت میں دودھ کا دھلا کون ہے۔ کوئی مفتی ہو کر ماڈلز کو ہوٹل بلاتا ہے، کوئی کسی ماڈل کے ذریعے منی لانڈرنگ بھی کرواتا ہے اور اسے اپنی مسٹریس کا درجہ بھی کھلے عام دیتا ہے۔ لاہور کے کلمہ چوک کو دیکھ کر کس گلوکارہ کا نام یاد آتا ہے؟ چھوٹے میاں بھی کسی سے پیچھے نہیں، وہ ایک سے زائد بیگمات رکھتے ہیں۔ لیکن تحریک انصاف کی طرف سے کسی پر کبھی کوئی انگلی نہیں اٹھائی گئی۔

بے شک یہ ان سب کا ذاتی فعل ہے۔ لیکن یہ عام لوگ نہیں ہیں، سیاست میں آنے کے بعد ذاتی کردار بھی زیربحث آتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عمران خان سے پہلے جن سیاستدانوں، ممبران اسمبلی اور حکمرانوں نے خواتین کے حوالے سے شہرت پائی ہے ان کا احتساب کیوں نہیں ہوا؟ بلیک بیوٹی کے سیاہ بالوں کی گھنی چھاؤں میں کون سوتا تھا؟

یحییٰ خان کے کارنامے سب پر عیاں ہیں، اور بے شمار ایسے ہیں جن کے کرتوت سامنے نہیں آتے، کیونکہ وہ کلھیا میں گڑ پھوڑنے کے طریقے جانتے ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب کچھ وزیروں کے ایسے کرتوت بھی سامنے آئے تھے جب انھوں نے ضرورت مند خواتین کو بہانے سے ہوٹل بلایا اور دست درازی کی، لیکن حکومت نے باخبر ہونے کے باوجود ’’ہاتھ ہولا‘‘ رکھا کہ ان کے حلقے اور دوستوں کی بات تھی، لہٰذا بات دبا دی گئی۔ ایک گلوکارہ بن باس کاٹ کر آتی ہے۔

سب کو معلوم ہے کہ بن باس کہاں اور کس کے لیے کاٹا گیا، لیکن وہ دنیا کو بہت ’’معصوم‘‘ سمجھتی ہیں۔ اس لیے نہایت معصومانہ انداز سے جواب میں کہتی ہیں کہ ’’بس کچھ عرصہ گانے کو جی نہیں چاہا۔‘‘ حالانکہ جب انھوں نے بن باس لیا تھا تو ان کی شہرت کا چاند آسمان پہ چمک رہا تھا، ایسے میں کوئی گھاٹے کا سودا نہیں کرتا۔ پھر علاقہ بھی ایک، زبان بھی ایک، پسندیدگی ایک اعلیٰ شخصیت کی۔ بھلا کون کافر اس سودے سے ’’ناں‘‘ کرتا۔

البتہ عمران خان کے حوالے سے خصوصاً تیسری شادی کی خبروں اور افواہوں کے حوالے سے ایک بات پسندیدہ نہیں ہے، وہ یہ کہ انھوں نے دونوں بار شادی شدہ خواتین کو طلاق دلوانا کیوں مناسب سمجھا؟ خاتون بیوہ ہوتی یا بہت پہلے سے طلاق یافتہ ہوتی تو بات سمجھ میں آتی تھی، بن بیاہی خواتین کی بھی کوئی کمی نہیں جو عمران خان کی شریک حیات بن سکتی تھیں۔ لیکن انھوں نے ایسا معیوب قدم کیوں اٹھایا؟ کم ازکم میں تو اسے معیوب ہی کہوں گی۔ دونوں نے معیوب قدم اٹھایا۔

ریحام نے اپنے شوہر اور بچوں کو چھوڑا تاکہ ’’خاتون اول‘‘ بن سکیں۔ لیکن موجودہ سلسلہ باعث حیرت بھی ہے اور تعجب کا باعث بھی۔ خصوصاً پنکی پیرنی کے سابق شوہر نامدار کے حوالے سے جو تفصیلات سامنے آئی ہیں وہ حیران کن ہیں۔ ہمارے ایک ساتھی نے انھی صفحات میں خاور فرید مانیکا کی شخصیت کے تمام پہلو اجاگر کردیے ہیں، خاص کر یہ کہ یہ اپنے حصے سے بھی زیادہ لے جاتے تھے۔ پھر یہ خاندان طویل عرصے سے روحانیت سے وابستہ ہے۔

پنکی پیرنی جن کا نام بشریٰ ریاض ہے، پانچ بچوں کی والدہ ہیں۔ عمران خان بہ سلسلہ روحانیت پنکی پیرنی اور خاور فرید مانیکا سے ملتے تھے۔ سنا ہے کہ مانیکا صاحب نے ازراہ عقیدت عمران خان کے لیے اپنی شادی شدہ زندگی داؤ پر لگادی۔ ان کے بچے بھی اپنی والدہ کے حوالے سے شایع ہونے والی خبروں سے پریشان ہیں۔ برصغیر کی عورت خواہ وہ ہندو ہو یا مسلمان، بچوں کی خاطر بیوگی کی زندگی کاٹ دیتی ہے لیکن دوسری شادی عام حالات میں نہیں کرتی، خصوصاً اس وقت جب بچے جوان ہوں۔ یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے۔

عمران خان کے عشق میں گرفتار بی بی اپنی نیک نامی و پارسائی سب قربان کر رہی ہے۔ کیونکہ ان کے سابق شوہر عمران خان کے پرستار ہیں۔ مجھے تو ذاتی طور پر یہ معاملہ کچھ ٹھیک نہیں لگا۔ عمران شوق سے شادی کریں، ان کا ذاتی حق ہے۔ لیکن شادی شدہ عورتوں کا اپنے اپنے شوہروں سے طلاق لینا بڑی معیوب بات ہے۔

بشریٰ بی بی کے بارے میں پڑھا کہ وہ پہلے بہت ماڈرن خاتون تھیں پھر روحانیت کی طرف مائل ہوگئیں۔ روحانیت سے قلب ماہیت کردی اور انھوں نے عمران خان کا دامن تھام لیا تاکہ پاکستان کو بچایا جاسکے۔ خدا کرے پاکستان بچ جائے۔ عمران خان اور پنکی پیرنی کی شادی مبارک ثابت ہو۔ دونوں خاندان کرائسس سے نکل آئیں۔

ہر پاکستانی کی دعا ہے کہ پاکستان سنبھل جائے حالانکہ یہ دیوانے کا خواب ہے۔ لیکن دیکھیے بشریٰ بی بی کو جو بشارت ہوئی ہے خدا کرے وہ سچی ہو اور پاکستان پر سے نحوست کے سائے دفع ہوجائیں۔ کرپشن کے مگرمچھوں کا خاتمہ ہو اور لوگ سکون کا سانس لے سکیں۔ جب تک یہ سطریں چھپیں گی شاید عمران خان شادی کا باقاعدہ اعلان کرچکے ہوں گے۔ مبارک عمران خان! بہت مبارک ہو۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *