ہوسکتا ہے – ایکسپریس اردو


Amjadislam@gmail.com

[email protected]

’’اٹھارہ برس قبل دیئے گئے دس ہزار کے ایک بلاسود قرض حسن سے جو سلسلہ شروع ہوا تھا اس کی مجموعی رقم اب 50 ارب کا سنگ میل بھی عبور کرچکی ہے اور 23 لاکھ خاندانوں کے تقریباً ایک کروڑ افراد اس سے براہ راست یا بالواسطہ فیض اٹھا چکے ہیں۔ کیا یہ خبر درست ہے اور کیا سچ مچ ایسا ہوسکتا ہے؟

اس کا فوری اور متوقع جواب یہی بنتا ہے کہ نہیں، ایسا ہرگز ممکن نہیں ہے۔ اب اگر اس میں یہ اضافہ بھی کرلیا جائے کہ یہ غیر سودی قرضے معاشرے کے غریب ترین اور بے وسیلہ لوگوں کو نہ صرف یہ کہ بلا کسی ضمانت کے فراہم کیے گئے بلکہ ان کی واپسی کا تناسب بھی 98% سے زیادہ ہے تو بات بالکل ہی کسی مجذوب کی بڑ محسوس ہونے لگتی ہے اور اگر میں اس سارے معاملے کا آغاز سے اب تک کا عینی شاہد نہ ہوتا تو میرا جواب بھی یہی ہوتا کہ یہ ناممکن ہے اور ایسا نہیں ہوسکتا۔

ایسا کیسے ہوا، ہوسکتا یا ہورہا ہے، اس کا جواب دینے اور سننے کے لیے گیارہ جنوری کی رات ’’اخوت‘‘ کی طرف سے ایک خصوصی تقریب تشکر کا اہتمام کیا گیا جس کے مہمان خصوصی یوں تو اس کے سبھی شرکاء تھے مگر رسمی حوالے سے یہ اعزاز صوبہ پنجاب کے دو گورنروں (ایک سابق اور ایک موجودہ) کو دیا گیا کہ ہر دو حضرات نے اپنی سرکاری اور ذاتی دونوں حیثیتوں میں اس ادارے کے ساتھ غیر معمولی تعاون کیا ہے۔

لطف کی بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک یعنی جنرل (ریٹائرڈ) خالد مقبول کا تعلق فوج سے اور دوسرے یعنی رفیق رجوانہ صاحب سول سوسائٹی سے ہیں۔ اب یہ کمال ان شخصیات اور اس بہت نیک مشن کا ہے کہ کارکردگی کے اعتبار سے ایک سے بڑھ کر ایک رہا ہے۔ اگر ایسا ہوسکے کہ زندگی کے باقی شعبوں میں بھی ہماری فوج اور سول سوسائٹی کے نمایندے اسی طرح مل کر اور محبت کے ساتھ رہنا سیکھ لیں تو ہمارے آدھے سے زیادہ مسئلے اسی سے حل ہوجائیں گے۔

تقریب کے اختتام پر کھانے کے دوران میز پر موجود فوجی اور سول احباب کی گفتگو اور باہمی صلاح مشورے کی فضا نے اسی تاثر کو مزید تقویت دی اور احساس ہوا کہ مسائل کی سنجیدگی، گھمبیرتا اور ہجوم اپنی جگہ لیکن اگر مل کر ان کا حل نکالنے کی کوشش کی جائے تو یہ عین ممکن ہے اور بالکل ہوسکتا ہے۔

ایدھی صاحب مرحوم کے بعد ہمارے معاشرے میں فلاح انسانیت اور معاشرے میں تعلیم، صحت اور بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت اور فروغ کے لیے کام کرنے والے جن اہم ترین لوگوں کا نام لیا جاسکتا ہے میری ذاتی رائے میں ڈاکٹر امجد ثاقب کا شمار ان شاندار اور قیمتی لوگوں کی پہلی صف میں ہوتا ہے اور جس طرح سے انھوں نے اخوت فاؤنڈیشن کو بنایا، چلایا اور مستحکم کرکے ایک فعال اور قابل اعتماد ادارہ بنایا ہے اس کی داد ان کا حق اور ہم سب کا فرض ہے کہ پسی ہوئی خلق خدا سے ہمدردی کا دعویٰ کرنے والے تو بہت ہیں مگر عملی طور پر ان کی عزت نفس کو بحال رکھتے ہوئے انھیں محنت سے رزق حلال کما کر اپنی اور اپنے خاندان کی کفالت کے لیے راستہ، وسائل اور تحریک دینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں اور بالخصوص ایسی بے یقینی اور بد اعتمادی کے دور میں جب کہ کوئی کسی پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں اور امانت داری کی روایت ایک بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔

اخوت نے اپنی انتظامیہ، تھنک ٹینک اور کارکنوں کی لگن اور محنت سے اپنی کارکردگی کے باعث اعتماد اور بھروسے کی ایک ایسی فضا پیدا کردی ہے کہ اب لوگ آنکھیں بند کرکے ان پر نہ صرف اعتبار کرتے ہیں بلکہ عطیات دیتے وقت اس کوشش میں رہتے ہیں کہ وہ اپنی استطاعت اور گنجائش سے بڑھ کر بھی اس کار خیر میں حصہ لیں۔

بالخصوص بیرون وطن مقیم پاکستانی ’’اخوت‘‘ کے اس تصور مواخات اور شفاف طریق کار سے اسقدر متاثر ہورہے ہیں کہ اب ان میں اپنے آبائی علاقوں کے پسماندہ اور کم وسیلہ لوگوں کی مدد اور بہتری کے لیے محدود سطح پر اس کی تقلید کا رجحان بھی زور زور پکڑ رہا ہے جو ایک بہت مستحسن رویہ ہے۔ یعنی اب اخوت صرف ایک تنظیم ہی نہیں بلکہ تحریک کی شکل بھی اختیار کرتی جارہی ہے۔

چند ماہ قبل مجھے اور انور مسعود کو ڈاکٹر امجد ثاقب کے ساتھ ایک ایسے ہی پروگرام کے سلسلے میں کوپن ہیگن (ڈنمارک) جانے کا موقع ملا جہاں سے کنجاہ ضلع گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان عمیر ڈار نے ایک ایسے ہی فنڈ ریزر کا اہتمام کیا تھا جس کا مقصد اخوت سے تعاون کے ساتھ ساتھ اپنے علاقے میں اس کا ایک ماڈل تیار کرنا تھا۔

اتفاق سے یہ نوجوان ان دنوں پاکستان آیا ہوا ہے اس سے پہل گھر پر اور اسی رات کو متذکرہ تقریب میں بھی ملاقات ہوئی۔ اس نے بتایا کہ ہماری اس وزٹ کے بعد سے اب تک وہ اور اس کے ساتھی کنجاہ میں اخوت کی طرز پر چھوٹے اور بلا سود قرضوں کی شکل میں پچاس لاکھ روپیہ جمع کرکے تقسیم کرچکے ہیں۔ یہ گویا ایک طرح سے دیئے سے دیا جلانے کا وہ خوب صورت عمل ہے جس کی روشنی سے پورا ملک منور اور مستفید ہورہا ہے۔

پچاس ارب کا مثالی سنگ میل پار کرنے کی خوشی اور شکرانے کے لیے اخوت کے دوستوں نے ہمیشہ کی طرح ایک نیا اور انتہائی خوبصورت اور خیال افروز انداز متعارف کرایا۔ وہ یوں کہ تشکر کی اس محفل کو حمد و نعت اور عارفانہ کلام پرمحیط کرکے خالق اور مخلوق کے درمیان موجود رشتوں سے اس طرح جوڑ دیا کہ روحوں کی شادابی چہروں پر رقص کرنے لگی اور یہ خوب صورت فریضہ شروع سے آخر تک ہمارے دوست اور عصر حاضر کے نمایندہ قاری، قاری صداقت علی نے بہت خوش اسلوبی اور روحانی عقیدت کے ساتھ ادا کیا۔

قرآن کریم کی قرأت کے دوران بڑی اسکرین پر پڑھی جانے والی آیت مبارکہ کا ترجمہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں ساتھ ساتھ چلتا رہا اور یوں مفہوم کو سمجھ کر پڑھنے اور سننے سے روح اور ذہن دونوں ایک ساتھ سرشار ہوتے رہے۔

گزشتہ دنوں میاں عامر محمود کے گھر پر جاوید غامدی صاحب کے ساتھ ایک محفل میں اس مسئلے اور موضوع پر خاصی گفتگو رہی اور تمام حاضرین ان کی اس بات سے متفق اور متاثر ہوئے کہ کلام الٰہی کو پڑھنے اور سننے کا ثواب اور لطف اپنی جگہ بہت بہت اہم تو ہے لیکن اس کی تعظیم کا صحیح حق ادا کرنے کے لیے اس کلام کے مفہوم کو سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ اس خوب صورت اضافے کی وجہ سے یہ محفل اور زیادہ بابرکت ہوگئی اور اگر اس کو ایک معمول بنالیا جائے تو بلاشبہ یہ ایک مستحسن اور ایمان افروز بات ہوگی۔

اور اب آخر میں پھر اسی بات کی طرف آتے ہیں کہ اگر دلوں میں یقین، نیتوں میں صفائی اور عمل میں خلوص ہو تو ناممکن کام بھی ہوسکتا ہے اور یہ کہ اخوت کا یہ کارنامہ اسی سوچ جذبے اور یقین کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ ضرورت صرف اس رویے کو تسلسل اور تقویت دینے اور اس آیت قرآنی کو سمجھنے کی ہے جس کا ترجمہ: مولانا ظفر علی خان نے کچھ یوں کیا ہے کہ

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *