شہاب ثاقب زمین پر کیوں گرتے ہیں؟



کشش ثقل Gravityکے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ مادے کا ایک ثانوی اثر ہے کیونکہ کسی بھی شے کا جو کمیت رکھتی ہو، ثقلی میدان ہوتا ہے۔ اِسی طرح اگردویا زیادہ اشیاء (Things)موجود ہوں جن کی اپنی کوئی کمیت ہو تو اُن کے درمیان بھی کشش ثقل موجود ہوگی۔ یہ قوتِ کشش ثقلGravity چونکہ ہمیشہ ہی کشش کی حامل ہو گی لٰہذا اِسی کشش کے تحت اشیاء کیلئے بھی اکٹھا رہنا یا یکجا رہنا ممکن ہوتا ہے۔آئزک نیوٹن(Newton) وہ پہلا سائنسدان تھا جس نے 1684ء میں اس قوت کی قدر معلوم کی۔ نیوٹن نے یہ دریافت کیا کی اجسام کے درمیان کشش ثقل Gravityاْن کی کمیتوں کے حاصل ضرب کے راست متناسب اور اُن کےمابین فاصلوں (Distance)کے مربع کے معکوس متناسب ہوتی ہے۔ لہٰذا:
Fg=Gm1m2/r
جس میں 
Fgثقلی قوت ہے، Gنیوٹن کا ثقلی مستقل ہے،m1پہلے جسم کی کمیت ہے، m2دوسرے جسم کی کمیت ہے جبکہ rاْن دونوں کے اجسام کے درمیانی فاصلے (Mid Distance)کے ظاہر کرتا ہے۔ اِس مساوات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ فاصلہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ کشش ثقل کی قوت(Power) بتدریج کمزورہوتی جاتی ہے لیکن اِس کی مقدار اْس وقت تک صفر نہیں ہو گی جب تک فاصلہ لامحدود (Unlimited)حد تک زیادہ نہ ہو جائے کا ئنات انتہا ئی وسیع و عریض ہے لیکن پھر بھی یہ لامحدود یت سے بہت دور ہے۔یہی وجہ ہےکہ کائنات(World) کا کوئی ذرہ کشش ثقل سے یعنی اْس کے اثر سے آزاد نہیں ہے۔ زمین اور دیگر سیٹلائٹس(Satellite) اور شہابے بھی جو سورج کے گرد حرکت پذیر ہیں اِس میں شامل ہیں۔ بدقسمتی سے ایک اصطلاح "صِفر کششِ ثقلZero Gravity"آج کل رائج العام ہو چکی ہے۔ 

یہ درحقیقت خلابازوں کے مشاہدات و تجربات(Experiment) پر انحصار کر تی ہے جو کہ اْنہیں خلا میں پیش آتے ہیں۔ لیکن وہ خلا باز بھی جو زمین سے 300کلو میٹر یعنی186میل مدار میں موجود خلائی شٹل(Space) کے عرشے پر کھٹرے ہوں، زمیں کی کشش ثقل کی زیِر اثر ہوتے ہیں۔ چونکہ قوت کی قدر فاصلے(Distance) کے معکوس متناسب ہو تی ہے جو کہ خلا باز اور سیارے(Planet) کے مرکز ثقل کے مابین ہوتا ہے۔ لہٰذا خلاباز اور زمین کے مابین کشش ثقل اندازاًزمین کی سطح پر موجود قوتِ کشش (Attraction)ثقل کے 91%تک کے مساوی ہوتی ہے۔ جب کوئی خلاباز مدار میں بے وزنی کی کیفیت محسوس (Feel)کر رہا ہوتا ہے تو اْس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ وہاں کشش ثقل مفقود ہے بلکہ اْس کی وجہ مسلسل فری فال کی حالت (Condition)ہوتی ہے۔ یعنی خلاباز خلائی شٹل یا گاڑی کے ہمراہ اْسی شرح سے زمینEarth کی جانب گِررہا ہوتا ہے جس شرح سے زمین کی سطح  کا خم ہوتا ہے لہٰذا زمین کی سطح پر وہ اْس وقت تک نہیں گرتا جب تک اْس کی رفتارSpeed زمین کے خم کی شرح سے مساوی رہے ۔ اگرخلا میں خلائی جہاز کی ولاسٹی Velocityاچانک صفر کر دی جائے تو خلائی جہاز فوراًزمین کی جانب گرنا شروع کر دے گا اور زمین کی بلائی فضاAir میں دضائی رگڑکے نتیجے میں جل کر تباہ ہو جائے گا۔


شہابِ ثاقب بھی وہ ننھے چٹانی کنکر Rock Grinderیا گرد کے ذرات ہوتے ہیں جو اپنی افتار میں کمی یا زمین کی فضا سے قربت کے نتیجے میں زمین کی جانب کشش ہو جاتے ہیں۔ بڑے حجم کے ٹکڑوںPieces کے لیے شہابوں کی اصطلا ح جبکہ چھوٹے کنکروں کو شہابیے کہا جاتا ہے۔ یہ ٹکڑے زمین کی فضا میں داخلEnter ہوتے ہوئے اس کی فضا کی انتہائی رگڑ سے جل کر فنا ہو جاتے ہیں اور دیکھنے والے کو لمحہ بھر کیلئے یوں محسوسFeel ہوتا ہے جیسے آسمان پر کوئی کو ندا لپکا ہو یا کوئی انگارہ گرا ہو۔ انہیں عموماً "Shooting Stars"کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر شہابیوں کا سائز گرد کے زرے سے لے کر چھوٹی کنکری تک کے مساوی ہوتا ہے جو چٹا نی یا دھاتی مادے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اِن کی کمیت عموماً ایک گرام سے بھی کم یعنی تقریباً0.04اونس کے لگ بھگ Estimateہوتی ہے۔ شہابیہ فضا میں بہت بلند شرح ولاسٹیVelocity سے داخل ہو تا ہے۔ اْس وقت اْس کی ولاسٹی 10کلو میٹر فی سیکنڈ سے لے کر 70کلو میٹر فی سیکنڈ تک یعنی 20,000میل سے لے کر 150,000میل فی گھنٹہ تک کے لگ بھگ Estimateہوتی ہے۔

 وہی تیز رفتاری فضا میں داخل ہونے پر فضا رگڑ کے نتیجے میں اِ ن کے درجہ حرارتAtmosphere میں بے انتہا اضافہ کر دیتی ہے۔ اور یو ں شہا بیے کی سطح بخارات بن کر اْڑنے لگتی ہے جس سے انتہائی بلند درجہ حرارت کے ایٹمAtom یا مالیکیول آزاد ہو تے ہیں۔ یہ انتہائی گرم ایٹم یا مالیکیو ل تقریباً ویسے ہی عمل جو فلور یسنٹ بلبFlorescent Bulb میں ہوتا ہے،روشنی خارج کرتے ہیں ۔  لٰہذاجب بھی ہم فضاAir میں کوئی شہابیہ گرتے دیکھتے ہیں جو عام پر ریت کے ذرے کے مساوی حجم کا حامل ہوتا ہے وہ دراصل انتہائی گرم ہو جاتا ہے اور اْس کے ایٹموں Atomsکی وجہ سے اْس کے سائز کے مطابق روشنی کی لکیرسی نمودار ہو جاتی ہے۔ شہابیے کا حجم جتنا زیادہ ہو گا روشنیLight کی لکیر اْتنی ہی دہر تک نظر آتی رہے گی۔
Loading...
شہاب ثاقب زمین پر کیوں گرتے ہیں؟ شہاب ثاقب زمین پر کیوں گرتے ہیں؟ Reviewed by Mirza Ehtsham on March 25, 2019 Rating: 5

No comments:

Facebook

Powered by Blogger.