ستا روں کی عمر کتنی ہوتی ہے؟


کسی ستارے کی عمر(Age) کا انحصار اس بات پر ہو تا ہے کہ وہ کتنی تیز ی سے اپنا نیو کلیا ئی ایندھن(Fuel) خرچ کر تا ہے۔ ہمارا سورج کئی حو ا لو ں سے ایک اوسط درجے(Average level) کا ستارہ ہے جو اپنی عمر کے تقر یبا 5ًبلین سال گزار چکا ہے اس کے باوجود یہ اندازاً 5بلین سال مزید زندہ رہ سکتا ہے۔ تقریبا (Almost)سارے ہی ستارے ہائیڈروجن کے انضمام کے نیو کلیائی عمل کے نتیجے(Result) میں روشنی پیدا کر تے ہیں۔یہ نیو کلیائی عمل اُن کی گرم اور کثیف مر کز اتی تہوں میں انجام پاتے ہیں جہاں درجہ حرارت(Temperature) عموما 20ً ملین سینٹی گریڈ ہو سکتا ہے۔ کسی ستارے پر پیدا ہونےوالی توانائی(Energy) کی شرح کا انحصار اس کے درجہ حرا رت اور سطح سے مر کز کی جانب ثقلی دباو سے کا فی گہرا ہو تا ہے۔ زیادہ وزنی ستاروں کے اعدادو شمار(statistics) مختلف ہوتے ہیں۔ ان ستاروں کی سطح پر چونکہ توانا ئی(Energy) کی پیدا وار کا عمل انتہائی بلند ہوتا ہے اس لئے ان کی روشنی ان کی کمیت سے کم از کم ایک مکعب یا تین گنا تک ہوتی ہے۔ زیادہ وزنی ستارے اپنا ایندھن(Fuel) کم وزنی ستاروں کے مقا بلے میں زیادہ جلدی جلا لیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ یہ غیر متنا سب حد تک چمکدار ہوتے ہیں۔ بعض وزنی ستارے تو اپنا ایندھن(Fuel)  محض چند ملین سال میں ہی جلا لیتے ہیں جبکہ کم کمیت کے حامل ستارے اپنا ایندھن (Fuel) نہا یت کفایت شعاری سے خرچ کرتے ہیں جسکے نتیجے میں یہ کروڑوں صدیوں تک زندہ رہ سکتے گے۔
ان میں سے زیادہ تر اتنی ہی عمر(Age) کے حامل ہیں جتنی کہ خود ہماری کائینات یعنی تقریبا 15ً بلین سال کے لگ بھگ عمر کے حامل ستارے ہیں۔ چونکہ یہ ایندھن(Fuel) جلاتے ہیں لہذا ان سے ہم تک پہنچنے والی روشنی بھی کافی مدہم ہوتی ہے۔
رات کے وقت جب ہم آسمان(sky) کی جانب نظر ا ٹھائیں تو ہمیں نظر آنے والے ستاروں میں سے اکثریت اُن ستاروں کی ہو گی جن کی کمیت بہت زیادہ ہو گی اور وہ ہمارے سو رج سے کئی گنا(many times) زیادہ روشن ہوں گے۔ طویل ا لعمر(Long and dark) ستاروں کی کمیت کم ہوتی ہے۔ یہ زیادہ عرصہ زندہ تو رہتے ہیں مگر ان کی روشنی عموما اتنی مدہم(Dim) ہوتی ہے کہ انہیں دور بین کے بغیر دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ اپنی زندگی کے آخری مر حلےمیں جب ایک ستارہ اپنی ساری ہائیڈروجن جلا چکا ہوتا ہے تو ایک بار یہ مرکز اتی(Etienne Center) دباو کے تحت باہر کو ابھرتا ہے اس وقت یہ زیادہ روشن ہوتا ہے۔ 

کھلی آنکھ سے نظر آ سکنے والے زیادہ تر ستارے عموماً اپنی عمر (Age) کے اسی دور سے گزر رہے ہیں اور ہماری توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ہمیں ان کی جانب متوجہ کرنے میں ان کی روشنی(Light) اہم کردار ادا کر تی ہے۔ یہ ستارے اوسطا سینکڑوں ملین سال پرانے اور رفتہ رفتہ موت(Death) کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ زیادہ وزنی ستارے جیسا کہ کہکشاں اور ائن (orion)میں موجود ریڈبیٹل جیوس (Red Betelgeuse)تیزی سے اپنی تباہی کے سفر پر گامزن(Steaming) ہے۔ اس قسم کا ستارہ جس تیزی سے ایندھن(Fuel) جلاتا ہے اس کے تحت یہ تقریبا10ملین سال میں ہی اپنی زندگی کے تمام مراحل طے کر جاتا ہے۔ اس قسم کے ستاروں کو مکمل طور پر تباہی سے دوچار ہوتے ہوتے مزید 1 ملین سال لگ جاتے ہیں اور آخر کار یہ انتہائی شدت(Extreme intensity) سے پھٹ پڑتا ہے۔اس پھٹنے کے عمل کو سپر نووا کہتے ہیں۔
ستارے اب بھی گیس اور گرد کے عظیم جمگھٹوں(Jumbs) میں تشکیل پا رہے ہیں لیکن یہ اپنے تشکیلی ماحول میں طویل عرصوں تک گم رہتے ہیں اور ان کی قابل بصارت(Worthy) روشنی کا زمین تک پہنچنا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔ ساینسدان انتہائی پچیدہ اور جدید دور بینوں کی مدد سے ان کا کھوج(Search) لگا سکنے میں عین ممکن ہے کامیاب ہو سکیں۔ اگر ایسا ہو سکا تو یہ امید بر آئے گی کہ سیاراتی نظاموں کی تشکیل (Formatting)کے عمل کو حتمی طور پر سمجھا جا سکے۔

Loading...
ستا روں کی عمر کتنی ہوتی ہے؟ ستا روں کی عمر کتنی ہوتی ہے؟ Reviewed by Mirza Ehtsham on March 25, 2019 Rating: 5

1 comment:

Facebook

Powered by Blogger.