خراٹے کیوں آتے ہیں؟



خراٹےShrubs دراصل وہ آواز ہے جو سانس کے راستے کے بالائی حصے میں ارتعاش کے نتیجے میں پیداہوتی ہے۔ عموماً یہ آواز سانس Breathکو اندکھینچتے ہوئے پیدا ہوتی ہے۔ سانس کے راستے کا کوئی بھی جھلی دار حصہ جس کو کر کر ی ہڈی (cartilage) کا سہارا یا معاونت میسر نہ ہو، مئر تعش ہو سکتا ہے۔ ان حصوں میں زبان، نرم تالو، گلے کا کؤا یہ گلے کے بچ میں نرم Softلٹکتا ہوا گوشت ہوتا ہے جو خوراک کو نگلنے کے دوران اسے ناک کی عقبی نالیReligious Groove میں جانے سے روکتا ہے ، گلے کی گلٹیاں یا لوزۃالحق(گوشت کے چھوٹے ٹکرےSmall Piece یا لوتھڑے جو حلق کے دونوں طرف لٹکتے رہتے ہیں۔ یہ خلیے پیدا کرتے ہیں اور حلق کو چھوت سے محفوظ Safeرکھنے میں مدد دیتے ہیں) اور حکقوم کی دیواریں وغیرہ شامل ہیں۔ جب ہم سوتے ہیں تو پورے جسم Bodyمیں پھٹوں کے فعل میں سُستی آ جاتی ہے یا باالفاظ دیگریہ( Hypo tactic) لطیف ہو جاتے ہیں ۔ 

اِن کی اِس لطافت کے نتیجے Moralمیں (جس میں کہ پُر سکون ہو کر ڈھلک جاتے ہیں ) سانس کے بالائی راستے کے سائزSizeمیں سوتے ہوئے کمی واقع ہو سکتی ہے اور اِس طرح سانس کو گزرنے کیلئے کم راستہ میسَرآتا ہے۔ راستے کی یہ محدودیت یا مسدودیت اور دباؤPressureمل کر اِسے گردابی صورت میں بدل دیتے ہیں۔سانس کے راستے میں ہوا Airکے گردابی بہاؤ اور عضلات کے ڈھلک جانے کے مجموعی اثر کے تحت شدید ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ اِس ارتعاشPromotion کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آواز خراٹے کہلاتی ہے۔خراٹےShrubs دراصل اپنی عمومی حالت میں کوئی بیماری نہیں ہیں لیکن بعض بیماریوں کی علامت ضرور ہیں مثلاََجیسے کھانسی نمونیا کی علامتSymbol ہو سکتی ہے ویسے ہی خراٹےShrubs بھی دورانِ نیند سانس کے راستے کی مسدوریت کی بیماری یا" "Obstructive Sleep Apnea کی علامت ہو سکتی ہے ۔ اس بیماری میں دوران نیند سانس کی راستے کی بندش سانس لینے میں رکاوٹ Obstacleیابہت زورلگا کر سانس لینے کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ خراٹوںShrubs کی صورت میں نکلتاہے۔ اس بیماری میں چونکہ سانس کم لی جاسکتی ہے لٰہذا رفتہ رفتہ جسم میں آکسیجن Oxygenکی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ عام طور پر یہ صورتحال جاگنے پر دْور ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ کہ خراٹے لینے والا تھوڑے تھوڑے وقفےDistance کے بعد جاگتا رہتا ہے۔ اِس وجہ سے اِس میں مبتلاشخصPerson کی نیند دوسرے افراد کے مقابلے میں کم آرام دہ ہوتی ہے۔


اس بیماری کے نتیجے میںیعنی"Obstructive Sleep Apnea" میں مبتلا فرد پر دن کے وقت بھی غنودگی چھائی رہتی ہے۔ اور اِن کیلئے کسی کام پر بھرپور توجہ دینا مشکل Problemہو جاتا ہے۔اِس کے علاوہ اَن کے جسم میں توانائی کالیوں بھی کم ہو جاتے ہے۔اِن مسائل کے نتائج Resultsبہت خطرناک ہو سکتے ہیں مثلاََگاڑی چلاتے ہوئے چونکہ پوری توجہFocus نہیں ہوتی اور اونگھ آجانے کے نتیجے میں حادثات بھی ہو سکتے ہیں نیز اِس بیماری کے شکار افراد میں دورانِ خون Bloodمیں اچانک تبدیلی مثلاََہائی بلڈپریشرHigh BP کی صورت حال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ خراٹے لینے کی وجہ اگر مذکورہ بالابیماریIllness نہ بھی ہو تو یہ اَن تمام مسائل کاپیش خیمہ ضرور ثابت ہو سکتے ہیں جواِس بیماریillness سے مخصوص نہیں۔اس سب کچھ کے باوجود صرف خراٹے لینے سے پیداہونے والی اکثر جسمانی وذہنی عوارض کی تفاصیل مر بوط اور ترتیبMethod  وار صورت میں تاحال معلو م نہیں ہیں۔خراٹوں کے بارے میں مختلفDifferent اداروں کے تحت کیے جانے والے سروے اورجائزوں سے جواعدادوشمار Statisticsسامنے وآئے اْن کے مطابق44% مرد اور 28% عورتیں خراٹے لینے کے عادی پائے گئے ۔

 اس تعدادمیں سے 4فیصد مرد اور 2فیصد خواتینWomen مذکورہ بالا بیماری میں مبتلا تھے۔یہبات بھی سامنے آئی کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ اِس بیماریillness کی شرح بھی بڑھتی جاتی ہے اور 65 سال کی عمر کے بعد تو اِس کا امکان کئی گنابڑھ جاتا ہے۔ اِن جائزوں میں یہ انکشاف Revealedخاصا اہم تھا کہ ایسے افراد جن کا وزن زیادہ تھا یا وہ کسی الرجی میں تھے یا ناکNose بند ہونے کے مسئلے سے دو چار تھے یا کژت سے سگریٹ نوشی کرنے والے اعصاب کو پُرسکون کرنے والی ادویاتMedicine یا خواب آور ادویات کا استعمال کرنے والے اور شراب نوشی میں مبتلاافرادمیں خراٹوںShrubs کی شرح باقی تمام افراد سے کہیں زیادہ تھی اور میں"OSA" یا"Obstructive" Sleep Apnea" کا شکار ہو نے کی شرح خطرناک حد تک زیادہ تھی۔خرابوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف قسم کے علاج، ٹوٹکے Tricksاور طبی آلات استعمال کیے جاتے ہیں ۔ اس ضمن میں خوشبو کے اخراجEmission کے ذریعے ناک کی بندش روکنے Stopکے راستے کی بحالی کا باعث بننے والا ایک بے ضررا آلہ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اسی قسم کی خوشبو Smellہوتی ہے۔ اگر مسلہ پیچیدہ ہو تو سرجری سے مدد لی جاتی ہے۔ بیرونی استعمالUse کی مختلف پٹیاں بھی استعمال کی جاتی ہیں جو اس مسلے میں خاطر خواہ سہولت فراہم کرتی ہیں۔ عام مشاہدے Experimentمیں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اگر پُشت کے بل سونے کی بجاے دائیں کروٹ سو جائے یا ایسی حالت Conditionمیں سو جائے کہ جسم کا بالالی حصہ درمیانMid سے بلند ہو تو بھی افاقہ ہوتا ہے ۔ 

وزن کم کرنے ے ، سکون آورادویاتMedicine کا استعمال ترک کر کے ، اور الرجی وغیرہ سے بچاؤ کر کے بھی اس مسلے میں کا فی بہتری آتی ہے۔ ایک آلہ "NCPAP" یعنی "Nasal Continuous Positive Airway Pressure" بھی زبان اور دوسرے نرم عضلات کو ڈھک کر سانس کے بالائی راستے میں گرانے سے روکتا ہے۔ سگریٹ نوشی Smokingکے باعث سانس کے راستے میں سوزش یا سوزجن پیداہو کر سانس کے راستے کو تنگ کر کے خراٹوںShrubs کا باعث بن سکتی ہے لہذا سگریٹ نوشی ترک کر نے سے بھی اس مسلے سے کافی حد تک ٹمٹا جا سکتاہے۔ اگر مندرجہ بالاکوئی طریقہMethod بھی کارآمد نہ ہو تو آخری حربے کے طور پر سرجری کرنا پڑتی ہے۔ ماضی Pastمیں آلات جراحی کے ساتھ سر جری کی جاتی تھی لیکن دور حاضر میں لیزرکی طاقتورPowerful شعاع کے ذریعے سانس کے راستے کی کچھ ارتعاشی بافتوں کو تباہ کر کے اس مسلے پرقابو پایا جا سکتا ہے۔ دونوں طرح کی سر جر ی Surgeryہی کافی تکلیف دہ ہوتی ہے اور ان میں کامیابی کی شرح 90فیصد سے100فیصد تک ہے۔


 خراٹوں کا مسلہ بڑوں کے علاوہ بچوں Children'sمیں ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطا بق نارمل بچوں میں سے 20فیصد بچے دوران نیند کبھی کبھار خراٹےShrubs لیتے ہیں جبکہ 70فیصد تا100 فیصد بچے ہررات خراٹے لیتے ہیں۔ خراٹے لینے والے بچے عموماََ صحت مندHealthy ہوتے ہیں اِن میں سے مجموعی طور پر 1فیصد بچے "OSA" میں مبتلا ہو تے ہیں۔ اِس میں مبتلا بچے راتNight کو خراٹوں کا جبکہ دِن بھر سْستی اور غنودگی کا شکار رہتے ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ اِس کاشکارTarget بچوں میں تقریباََ وہی علامات پائی جاتی ہیں جو "ADD" یعنی "Attention Deficit Disorder" یاتوجہ کی پسماندگی کا شکار بچوں میں پائی جاتی ہیں۔ بچوں میں اِس کا عام وجوہات میں ٹانسلزاور ایڈینائیڈغدودوں کا بڑھ جاناExtendشامل ہیں جن پر جراحی کے ذریعے قابو پاناجاسکتا ہے۔مشہور ناول Novelنگار انتھونی باگس کا کہنا ہے کہ: " آپ ہنسیں گے تو لوگ بھی آپ کے ساتھ ہنسیںLaugh گے لیکن اگر آپ خراٹے لیں گے تو پھر اکیلے ہی سوئیں گے۔ "
Loading...
خراٹے کیوں آتے ہیں؟ خراٹے کیوں آتے ہیں؟ Reviewed by Mirza Ehtsham on March 09, 2019 Rating: 5

No comments:

Facebook

Powered by Blogger.