خواب کیسے آتے ہیں؟



 اکثر اوقات ذہنMind میں یہ سوال اْٹھتا ہے کہ " ہم خواب Dreamکیوں کر دیکھتے ہیں؟" یا پھریہ کہ " خواب آنے کا عمل کیا ہے" یہ سوال پو چھنا جتنا آسان Simpleہے اِس کا جواب اْتنا مشکل ہے۔ سب سے بہترین جواب تو یہی ہو سکتا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ خوابDream کیوں کر آتے ہیں۔ یہ کم علمی باعث حیرت نہیں ہو گی کیونکہ نیندSleep اور خواب کے بارے میں پیش کیے گئے کئی نظریات کی موجودگی کے باوجودنا تو نیند کی وجہ کو ہی سمجھاجا سکاہے اور نہ ہی "REM" یعنیRapid Eye Movement" "نیند کو سمجھا جاسکاہے۔ آخر الذکر قسم کی نیند کے دوران ہی خوابDream آنے کا عمل وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اِن دونوں حیاتیاتی حالتوں کا سائنسی مطالعہ Science Studyخوابوں کے مبہم نظریے کے مطالعے کی نسبت آسان ہے۔ 

کچھ سائنسدان تو یہ کہہ کر دامن چھڑالیتے ہیں کہ خواب کے دوران کوئی اور عملOccasionally وقوع پذیر نہیں ہوتا ہے۔ اْن کا خیال ہے کہ نیند اور "REM" نیند کے کچھ حیاتیاتی عوامل ہیں اور خوابوں کا آنا دراصل اْس دماغی عمل کا ایک مابعد اثر ہے جو"REM" نیند کے دوران دماغ کے حیاتیاتی عمل کے دوران وقوع پذیرہوتا ہے۔ لیکن بعض ماہرینExperts اسے غیر ضروری طرزِعمل قرار دیتے ہیں۔ اْن کا کہنا یہ ہے کہ " کیا ہم اِس بات سے مطمئن ہو سکتے ہیں کہ سوچ Thinkingکا کوئی عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک ما بعد مظہر ہے یا دماغی تحریک کی وہ قسم ہے جو دماغ کی بیداری کی حالت Conditionمیں وقوع پذیر ہوتی ہے؟" ظاہر ہے ایک متجسْس ذہینMind تو اِس سے مطمئن نہیں ہو گا۔

آیئے احال ہی میں محققین کے ایک گروپ Groupکی جانب سے پیش کیے گئے خوابوں کے عمل سے متعلق جدید نظریے تصورات اور امکانات کا جائزہ Overviewلیتے ہیں۔ اِس نظریے کو خوابوں کا معاصر نظریہ یا"Contemporary Theory of Dreaming" کا نام دیا گیا ہے۔ اِس کا بنیادی تصور یہ ہے :دماغ کی تحرکی وضع قطع مسلسل بدلتی رہتی ہے جس سے مسلسلContinuous کئی رابطے تشکیل پا رہے ہوتے ہیں اور کئی منطقع ہو رہے ہوتے ہیں۔ یہی رابطےRelations ہمارے ذہن کی طبی بنیادیں بنا رہے ہوتے ہیں۔ ان رابطوں کی تشکیل میں ایک تسلسل ہوتا ہے۔اسی تسلسل کو باہم ذہنی Mindعمل کہا جاتا ہے۔اس تسلسل کے ایک سِرے پرمرتکز بیدار تحریک ہوتی ہے ایسے ہی جیسے ہم کسی مسلےProblem پر غور کر رہے ہوں تو دماغی تحریک کا ارتکاز ہوتا ہے۔ اس صورت میں ہمارا ذہنی عمل مرتکز ،محدود Limitedاور سیدھا یا مستقیم ہوتا ہے۔ جب ایک طرزِ عمل سے دوسرے طرزِ عملOther Behavior کی جانب اس دماغی تسلسل کی منتقلی ہوتی ہے یعنی مرتکز بیداری کی تحریکMovement سے نسبتاآزادبیداری کے تخیل کی جانب تو ذہن میں ہمارے تصورات کے مطابق Accordingخاکے تشکیل پا رہے ہوتے ہیں اور ہم کھلی آنکھوں کے باوجود محض ذہنی ارتکاز کی وجہ سے ان خاکوںSketches کو دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ اس عمل میں ذہنی ارتکاز زیادہ آزاد خود مختار زیادہ تخیلاتی ہوتا ہے۔ خوابDream اس تسلسل کاّ آخری سرا ہوتے ہیں یعنی ایسی حالت جس مین ذہنی رابطے Relationبہت زیادہ اور خودمختار ہوتے ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ ذہنی رابطوں کی تشکیل ایک بے قاعدہ Unbelievableعمل ہے لیکن اس صورت میں تو خواب بنیادی Basicطور پر بے مطلب ہوں گے۔ خوابوں Dreamsکے معاصر نظریے کے مطابق یہ عمل بے قاعدہ نہیں ہے بلکہ خواب دیکھنے والے کے جذبات Emotionsاس کی رہنمائی کرتے ہیں ۔جب خواب دیکھنے والے کے جذبات میں حتمیت آ جاتی ہے تو خواب بھی بالکل سیدھےStraightاور سادہ ہوتے ہیں۔ مثلا کسی حادثے کا شکارTarget ہونے والے، کسی حملے میں بچ جانے والے یا کسی شدید ذہنی صدمے کا سامنا کرنے والوں کو عموما اُنہی حالات Conditionsسے ملتے جلتے خواب آتے ہیں یا بعد میں کچھ دوسرے خوفزدہ Scaredکر دینے والے خواب آنے لگتے ہیں۔ مثلا خواب دیکھنے والا کسی سمندر کے کنارے کھڑا ہے اور سمندر کی لہر اسے اپنے ساتھ بہا کر لے گئی ہے۔ یہ دراصل Actuallyتمثیلی صورت حال ہے یعنی خواب دیکھنے والا اصل سدماتی واقعےStory کو خواب میں نہیں دیکھ رہا بلکی اس کی جگہ اس کے صرف خوف کے جزبے(Emotion) کی تصور کشی ہو رہی ہے ۔ جب خواب دیکھنے کی جزباتی صورتحال واضح نہیں ہوتی یا جب وہ ایک سے زیادہ جزبات Emotionsسے بیک وقت مغلوب ہو یا پھر بیک وقت بہت سے مسائل کا شکار ہو تو اس صورت میں ذہنی رابطوںRelations پر مختلف خیالات کی یلغار ہو رگی۔ ایسی صورت میں آنے والے خواب زیادہ پیچیدہ Complicatedاور عماما ناقابلِ فہم ہوں گے۔ اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناپسندیدہ یا برے خوابBad Dreams زیادہ آتے ہیں۔

خوابوں کے معاصر نظریے کے مطابق خواب دماغی رابطوں کی وسیع پیمانے پر تشکیل وتبدیلChange کا نتیجہ ہوتے ہیں اور خواب دیکھنے والے کے جزباتEmotions اُس کے خوابوں کی رہنمائی کرتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی خواب محض دماغ میں وقوع پزیرOccasionally ہونے والا عمل ہے یا اس کی کوئی غایت بھی ہوتی ہے؟۔ دماغی فعل (function) کو ثابت کرنا اگر چہ انتہائی دشوار ہے لیکن معاصر نظریہ پیش کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظریےTheory کی بنیاد بہت سے افراد اور انکے خوابوں کا تجزیہ نیزان کے نفسیاتی طرزِ عمل کا مطالعہ ومشاہدہ Experimentہے جو مختلف اوقات میں اور مخلف مقامات پر کیا گیا۔ ان میں ایسے افراد کے خوابوں کا خصوصیت سے تجزیہAnalysis کیا گیا جو ماضی قریب میں کسی شدید صدمے سے دوچار ہوئے ہوں مثلاََ کسی شدید آگFire میں جھلسنے یا بال بال بچ جانے والے فرد کو شروع میں عموماََ اصل آگ والے خواب نظر آئیں گے لیکن بعد میں وہ محض تمثیلی خوابYour Dream دیکھ سکتا ہے مثلاََ وہ سمندر Seaکے کنارے کھڑا ہے اور سمندر کی لہر اُسے بہا لے گئی ہے وغیرہ ۔

 آخر الذکر خواب دراصل اس کے اندر موجود خوفScare کی ترجبقامی کر رہا ہو گا۔ چند ہفتون کے بعد خواب آگ اور سمندر سے جوڑنا شروع Startکر دے گا جو ماضی میں کبھی در پیش آے ہوں گے ۔ یوں رفتہ رفتہ خواب اپنی عامیانہ اور سادہ صورت Simple Conditionکی جانب لوٹ آئے گے ۔ بعض اوقات دورانِ خواب کسی واقعے کا رابطہ Contactذہن میں کسی نئے مواد کے ساتھ ہو جاتا ہے جس سے کوئی ممکنہ عمل یا کسی مسلئے کا ھل بھی بعض اوقات سامنے آ جاتا ہے۔ جب یہ رابطےRelations بنتے ہیں تو ان کے فوری اثرات وواقعاتStories کو دوسرے واقعات سے جوڑنے کے نتیجے میں جزباتیEmotions ہیجان یا پریشانی میں کمی واقع ہو جاتی ہے جب کہ بعد کہ اثرات ذہن مین موجود صدماتی معلوماتInformation کو یاداشت کے دوسرے حصوں Other Partsسے جوڑنے سے ذہن کو یہ پیغام ملتا ہے کہ اب یہ واقع انتہائی اہم یا شدید نہیں رہا ۔ لٰہذا اگلی بار جب وہ واقعہ  اُس سے ملتا جلتا Similarکوئی واقع پیش آئے تو ذہنی رابتہ پہلے سے موجود ہو گا اور وہ واقعہ اُس حد تک شدید صدماتی کیفیت Qualityپیدا نہیں کرے گا۔

اِ سے قائم کرنے میں مدد ملتی ہے دماغ کے یاداشتی Memoryنظام میں نئی معلومات ناصر جزباتی ہیجان کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ مستقبل Futureمیں صدمات درپیش آنے کی صورت میں صدمے کی شددت کو قابلِ برداشت بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یہ نظریہ حتمی تو نہیں لیکن نسبتاََ اطمینانFresh بخش ضرور ہے۔ اس سلسلے میں مزید تحقیقات Investigateکا سلسلہ جاری ہے۔
Loading...
خواب کیسے آتے ہیں؟ خواب کیسے آتے ہیں؟ Reviewed by Mirza Ehtsham on March 09, 2019 Rating: 5

No comments:

Facebook

Powered by Blogger.